مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 311 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 311

مضامین بشیر جلد سوم عقل مند انسان اس کا انکار نہیں کر سکتا۔311 دوسری پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تھی جو مصلح موعود والی عظیم الشان پیشگوئی کا حصہ ہے۔حضور مصلح موعود کے متعلق اپنی الہامی عبارت میں فرماتے ہیں۔نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قو میں اس سے برکت پائیں گی۔(اشتہار 20 فروری 1886ء مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 96 طبع دوم) اب دیکھو کہ یہ پیشگوئی کس شان سے پوری ہوئی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مقام خلافت اور اپنے کارناموں میں جلد جلد بڑھنے اور ترقی کرنے کا نظارہ تو شروع خلافت سے جماعت کے سامنے ہے۔مگر حضور کے موجودہ سفر نے زمین کے کناروں تک شہرت پانے اور قوموں کے برکت حاصل کرنے کے پہلو کو بھی کس صفائی سے پورا کیا ہے۔یہ ایک خاص تصرف غیبی تھا کہ حضور اپنے ذاتی رجحان کے خلاف ہوائی جہاز میں گئے اور پھر کراچی سے ہوائی جہاز میں بیٹھ کر سیدھے لندن نہیں گئے۔بلکہ حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کے عین مطابق رستہ میں کئی ملکوں اور قوموں کو برکت دیتے ہوئے لنڈن پہنچے۔اور اسی طرح واپسی پر بھی کئی ملکوں اور قوموں میں قیام کا موقع پیدا ہوا۔چنانچہ شام، لبنان، اٹلی، سوئٹزرلینڈ ، ہالینڈ، جرمنی اور انگلستان تک حضور کا پیغام پہنچا اور حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق ان سات ملکوں اور ان کے باشندوں میں قیام کر کے اور انہیں خطاب کر کے انہیں برکت پہنچائی۔تیسری پیشگوئی خود حضرت خلیفہ مسیح لثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کی ہے۔جوحضور نے مصلح موعود والی رویا میں خدا سے خبر پا کر دنیا میں ظاہر فرمائی۔حضور فرماتے ہیں کہ اس رویا میں۔میں تقریر کرتے ہوئے کہتا ہوں۔میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لئے انیس سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی ہیں اور جب میں یہ الفاظ کہتا ہوں تو میں نے دیکھا کہ کچھ نو جوان عورتیں جو سات یا نو ہیں۔جن کے لباس صاف ستھرے ہیں دوڑتی ہوئی میری طرف آتی ہیں۔مجھے السلام علیکم کہتی ہیں اور ان میں سے بعض برکت حاصل کرنے کے لئے میرے کپڑوں پر ہاتھ پھیرتی جاتی ہیں اور کہتی ہیں ہاں ہاں ہم تصدیق کرتی ہیں کہ ہم انیس سو سال سے آپ کا انتظار کر رہی تھیں ( الفضل یکم فروری 1944ء)