مضامین بشیر (جلد 3) — Page 9
مضامین بشیر جلد سوم 9 کہلانے کے حق دار نہیں ہو سکتے۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مِمَّا رَزَقْنهُم يُنفِقُونَ (البقرہ: 4) کے الفاظ میں صرف مال کا خرچ کرنا ہی مراد نہیں۔بلکہ ہر وہ چیز جو خدا کی طرف سے انسان کو ملتی ہے۔وہ خدا کا دیا ہوا رزق ہے اور انسان کا فرض ہے کہ ہر ایسے رزق میں سے دوسروں کا حصہ نکالے۔انسان کے قومی اس کا رزق ہیں۔انسان کے اوقات زندگی اس کا رزق ہیں اور انسان کا علم بھی اس کا رزق ہے۔پس ان تمام رزقوں میں سے خدا اور جماعت کا حق ادا ہونا چاہئے۔کوئی احمدی سچا احمدی نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ اپنے مال کے علاوہ اپنی جسمانی طاقتوں اور اپنے اوقات زندگی اور اپنے کسب کردہ علوم کا بھی کچھ نہ کچھ حصہ خدا کے رستہ میں خرچ نہ کرے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ جس طرح تبلیغ کے تین گر ہیں۔اسی طرح تربیت کی بھی تین بنیادی چیزیں ہیں۔اور ہر صلح کا فرض ہے کہ وہ اپنے حلقہ میں ان تینوں باتوں کی اصلاح کی طرف توجہ دے یعنی:۔(1) لوگوں کے دلوں میں ان باتوں پر ایمان پیدا کرے جسے اسلام نے ایمان بالغیب قرار دیا ہے۔کیونکہ اسی غیب والے ایمان کے ارد گر دہی عالم شہود کی ساری طاقتیں چکر لگاتی ہیں۔(2) لوگوں کو نماز کا عادی بنائے جو حقوق اللہ کا مرکزی نقطہ اور روحانیت کی جان ہے اور انسان کو خدا کے دامن کے ساتھ باندھ کر ابدی راحت کا وارث بناتی ہے۔(3) لوگوں میں اس ذمہ داری کا احساس پیدا کر لے کہ ان کے رزق میں خدا اور جماعت اور ان کے دوسرے بھائیوں کا بھی حصہ ہے اور اس حصہ کوادا کرنے کے بغیران کا رزق کبھی پاک نہیں ہوسکتا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کراچی کے اخبار المصلح کا عملہ تبلیغ اور تربیت کے میدان میں ان چھ اصولی باتوں کو مد نظر رکھے گا۔جن میں سے تین بیرونی تبلیغ کے دائرے سے تعلق رکھتی ہیں۔اور تین اندرونی تربیت کے دائرے سے متعلق ہیں۔تو انشاء اللہ ، خدا تعالیٰ ان کے کام میں برکت ڈالے گا اور وہ جلد ہی جماعت میں ایک طرف غیر معمولی ترقی اور دوسری طرف غیر معمولی پاک تبدیلی کے آثار دیکھ لیں گے۔کیونکہ دین کے رستہ میں ہر مومن کی کچی کوشش ہرگز ضائع نہیں جاتی۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور ہم سب اس کے عابد اور اس کی جماعت کے خادم بن کر زندگی گزاریں۔آمین۔اللهم آمین۔وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ روزنامه الفضل لا ہور 25 جنوری 1951ء)