مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 179 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 179

مضامین بشیر جلد سوم 179 قبولیت کا قانون نہ ہو تو مذہب ایک بالکل بے جان چیز بن کر ختم ہو جاتا ہے۔لیکن باوجود اس کے عام حالات سے تعلق رکھنے والا اصول یہی ہے کہ شریعت کا قانون اور نیچر کا قانون الگ الگ دائرہ میں چلتے ہیں۔اور ایک دوسرے کے کام میں دخل نہیں دیتے۔نیچر یعنی قضا و قدر کے قانون میں یہی دنیا دارالعمل ہے اور یہی دارالجزاء ہے۔مگر شریعت کے قانون میں یہ دنیا صرف دار العمل ہے اور دارالجزاء آخرت کی زندگی ہے۔مثال کے طور پر دیکھو کہ کیا ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ نفسی ) کو کوئی بیماری یا حادثے پیش نہیں آتے تھے؟ کیا اُحد کے میدان میں آپ دشمنوں کے ہاتھ سے زخمی نہیں ہوئے ؟ کیا ایک دفعہ آپ گھوڑے سے گر کر کئی دن تک صاحب فراش نہیں رہے؟ کیا خیبر کی جنگ میں جبکہ آپ کو ایک بد بخت یہودی عورت نے زہر دے کر مارنے کی کوشش کی تھی۔آپ نے اپنی مرض الموت میں جبکہ آپ کی جسمانی طاقتیں کمزور پڑ رہی تھیں اس زہر کا اثر محسوس نہیں کیا تھا؟ اگر یہ سب واقعات تاریخ اسلام کا ایک کھلا ہوا ورق ہیں تو اس بات میں کیا شبہ ہے کہ عام حالات میں نیچر کے قانون نے جو سب انسانوں پر حاوی ہے آپ پر اپنا طبعی اثر پیدا کیا۔اور آپ کا ارفع مقام اور اعلیٰ روحانیت آپ کو ان طبعی عوارض سے محفوظ نہیں رکھ سکے۔گو دوسری طرف اس عام قانون نیچر کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمارے آقا کے ہاتھ پر بے شمار خوارق ظاہر فرمائے اور کئی موقعوں پر جبکہ خدا کی خاص مشیت کا تقاضا تھا نیچر بھی ادنی غلاموں کی طرح آپ کے قدموں میں جھکی رہی اور یہی صورت اپنے اپنے رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دیگر مرسلین کے حالات زندگی میں نظر آتی ہے۔پس سطحی خیال کے لوگوں کی طرح خدا کے دو جدا جدا حکیمانہ قانونوں کو خلط ملط نہ کرو۔اور نہ تم اس قسم کے حادثات کی کوئی معقول تشریح نہیں کر سکو گے۔جو میجر محمد اسلم خان مرحوم کے بچے اور فلائنگ آفیسر عبدالحمید خان غزنوی کو پیش آئے۔اور یا تو تمہیں دہر یہ لوگوں کی طرح یہ نتیجہ نکالنا پڑے گا کہ نعوذ باللہ خدا کوئی نہیں اور سب اندھیر نگری ہے۔ورنہ دو معصوم اور نیک جانیں اس قسم کے درد ناک حالات میں ضائع نہ ہوتیں اور یا ہندوؤں کی طرح یہ نتیجہ نکلے گا کہ خدا تو بیشک ہے مگر مرنے والوں نے اپنی کسی سابقہ جون کی سزا پائی ہے۔حالانکہ یہ دونوں نظریے بالبداہت باطل ہیں۔پس حق یہی ہے کہ بے شک مرنے والے اور ان کے پسماندگان نیک تھے مگر ان کی نیکی شریعت کے قانون سے تعلق رکھتی تھی جو انہیں قانون نیچر کے حادثہ سے محفوظ نہیں رکھ سکی اور انہوں نے دانستہ یا نادانستہ نیچر کے قانون کو توڑنے کا خمیازہ بھگتا۔لڑکا ایک بلند کھڑکی پر چڑھا اور چونکہ وہ خود نا سمجھ تھا اور کوئی روکنے والا قریب نہیں تھا۔اس لئے وہ اس کھڑکی سے گر کر جاں بحق ہو گیا۔اور اس کی معصومیت یا اس کے بعد اس کی والدہ کو پیش آنے والا غم والم اسے اس حادثہ سے بچا نہیں