مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 180 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 180

مضامین بشیر جلد سوم 180 سکے۔اسی طرح عبدالحمید خاں غزنوی کا جہاز کسی اندرونی نقص کی وجہ سے جس کا اسے علم نہیں ہو سکا یا رستہ میں کوئی طوفان با دیپیش آجانے کی وجہ سے جس پر وہ قابو نہیں پاسکا یا کسی خطرناک ایر پاکٹ میں داخل ہو جانے کی وجہ سے جو اس کے کنٹرول سے باہر تھا گر کر ہلاک ہو گیا۔اور غزنوی مرحوم کی نیکی یا اس کے پسماندگان کو پہنچنے والا غیر معمولی صدمہ اسے اس حادثہ سے محفوظ نہیں رکھ سکے۔اور چونکہ یہ ایک عام نیچر کا واقعہ تھا اس لئے خدا کی کوئی خاص استثنائی تقدیر بھی آڑے نہیں آئی۔اور لاء آف نیچر کی عام نقد میرا پنا کام کر گئی۔یہی وہ صاف اور سیدھی صورت ہے جس کے ماتحت اس قسم کے حادثات کی معقول تشریح کی جاسکتی ہے۔ورنہ اگر ایسے عام حادثات میں بھی نیکی بدی کے قانون کی دخل اندازی کا رستہ کھولا جائے تو مذہب کے میدان میں کوئی امن باقی نہیں رہتا۔اور انسان ایک ایسی بھول بھلیاں میں گر جاتا ہے جس میں اس کیلئے کوئی جائے مفر نہیں۔میرا یہ نوٹ پھر مضمون کی وسعت اور باریکی کے لحاظ سے بہت مختصر ہے۔مگر میں اپنی موجودہ صحت میں اس سے زیادہ نہیں لکھ سکتا اور صرف اس اصولی تشریح پر اکتفا کرتا ہوں۔اگر باوجود اس تشریح کے کوئی نا واقف انسان یہ سمجھ کر دعا سے رکتا ہے کہ جو کچھ مقدر ہے وہ بہر صورت ہو کر رہے گا اس لئے دعا کرنا بے سود ہے۔یا کوئی جاہل شخص انبیاء اور اولیاء کے خوارق سے انکار کرتا ہے تو وہ اسی طرح کی حماقت کا مرتکب ہوتا ہے جس طرح کہ ایک نادان انسان دوسری انتہا پر جا کر اس قسم کے حادثات سے دہریت یا تناسخ کے عقیدہ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا ہے۔بالآخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک لطیف ارشاد پر اس نوٹ کو ختم کرتا ہوں۔حضور اپنی تصنیف کشتی نوح میں عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔اگر چہ شریعت نے مختلف مصالح کی وجہ سے تعدد ازدواج کو جائز قرار دیا ہے۔لیکن قضا و قدر کا قانون تمہارے لئے کھلا ہے۔اگر شریعت کا قانون تمہارے لئے قابل برداشت نہیں تو بذریعہ دعا قضا و قدر کے قانون سے فائدہ اٹھاؤ کیونکہ قضا وقد رکا قانون شریعت کے قانون پر بھی غالب آجاتا ہے“ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 81) اس لطیف حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں ایک طرف ان دو قانونوں یعنی قانون شریعت اور قانونِ قضاء وقدر ) کے دو علیحدہ علیحدہ وجودوں کو مانا ہے وہاں خاص حالات میں ان کے باہم اثر انداز ہونے کو بھی تسلیم کیا ہے۔اور یہی حق ہے کہ كُلّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَمَالَ هَوْلَاءِ الْقَوْمَ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا۔