مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 175 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 175

مضامین بشیر جلد سوم 175 اس مختصر تشریح سے ظاہر ہے کہ جو بچہ اونچی کھڑکی سے گر کر فوت ہو گیا۔وہ خواہ کیسا ہی معصوم تھا اور خواہ اس کی موت سے اس کی غم رسیدہ والدہ کو کیسا ہی صدمہ پہنچنے والا تھا۔وہ چونکہ قانون نیچر کی زد میں آگیا تھا۔اس لئے اس کی معصومیت اور اس کی والدہ کا غم والم اسے اس حادثہ سے بچا نہیں سکے۔اسی طرح ہونہار غزنوی جو ہوائی جہاز کے حادثے میں موت کا شکار ہو گیا۔وہ خواہ کیسا ہی دیندار اور خوش اخلاق تھا۔اور خواہ اس کے والدین اس کی موت سے بالکل بے سہارا رہ جانے والے تھے مگر ہوائی جہاز کا حادثہ چونکہ نیچر کے قانون سے تعلق رکھتا تھا۔اس لئے مرنے والے کی نیکی اور پیچھے رہنے والوں کی مصیبت اسے اس حادثہ کے طبعی نتیجہ سے محفوظ نہیں رکھ سکی۔پس ان حادثات سے عقل والوں کا دہریت کی طرف جھک جانا یا جذبات والوں کا تناسخ کے عقیدہ کے حق میں نتیجہ نکالنا ایک بالکل باطل نظریہ ہے۔جو خدا تعالیٰ کے دو جدا گانہ اور حکیمانہ قانونوں کو آپس میں خلط ملط کرنے اور ان کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔مگر جیسا کہ میں نے اوپر بتایا ہے۔یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے۔جس کی اس مختصر نوٹ میں گنجائش نہیں اور نہ میری موجودہ بیماری مجھے کسی لمبی تشریح میں جانے کی اجازت دیتی ہے۔البتہ جو دوست چاہیں وہ میری تصنیف ”ہمارا خدا کے متعلقہ ابواب میں اس کی مفصل بحث مطالعہ فرما سکتے ہیں۔بالآخر میں پھر مرنے والوں کے عزیزوں سے اپنی دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کے زخمی دلوں کو قرار عطا کرے اور انہیں اپنی رحمت سے نوازے۔اور ان کا حافظ و ناصر ہو۔انہیں چاہئے کہ اس حقیقت کو کبھی نہ بھولیں کہ گومر نے والے مر گئے۔مگر ہمارا خدا ہمارا آسمانی آقا جور حیم بھی ہے اور کریم بھی ہے اور جی بھی ہے اور قیوم بھی ہے اور قادر بھی ہے اور علیم بھی ہے۔وہ زندہ ہے اور رنج وغم کی گھڑیوں میں اس کی طرف جھکنے والا انسان کبھی بھی اس کی رحمت سے محروم نہیں رہتا۔بے شک یہ امتحان بھاری ہے مگر تبھی تو یہ کہا گیا ہے کہ۔” ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر“ وو پس تم بھی خدا کے اس امتحان کو وفادار مومنوں کی طرح قبول کرو اور اس آستانہ پر جھکے رہو۔اور عسر وئیسر اور رنج و راحت میں اس کا دامن نہ چھوڑو۔کیونکہ یہ حضرت آدم سے لے کر حضور سرور کائنات تک اور سرور کائنات سے لے کر اس وقت تک کا آزمایا ہوا نسخہ ہے۔کہ خدا کے دامن سے لپٹنے والے لوگ بالآخر خدا کی رحمت سے ضرور حصہ پاتے ہیں۔خواہ اسی دنیا میں پائیں اور خواہ اگلے جہان میں اور سچے مومنوں کے لئے اگلے جہان کا سودا بھی کوئی دور کا سودا نہیں۔بلکہ ایسا ہی یقینی ہے جیسا کہ اس جہان کی نعمتیں بلکہ ان سے بڑھ کر اور ایک لحاظ سے ان سے قریب تر۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک صحابی کو آنکھوں کا صدمہ لاحق ہوا