مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 100 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 100

مضامین بشیر جلد سوم 100 روحانیت کی چمک خدا اور اس کے رسول کی سچی محبت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔اگر انسان کو یہ نعمت حاصل ہو جائے تو ظاہری عمل زندگی کی روح سے معمور ہو کر اس کے پیچھے پیچھے بھاگا آتا ہے۔لیکن اگر انسان کو یہ نعمت حاصل نہ ہو تو پھر خشک عمل ایک مُردہ لاش سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا جو ظاہر پرست لوگ اپنے سینوں سے لگائے پھرتے ہیں۔خدا جانتا ہے کہ اسی محبت رسول کے جذبہ کے ماتحت میں نے یہ رسالہ (چالیس جواہر پارے ) لکھا ہے تا اگر خدا کو منظور ہو تو اس کے پڑھنے والوں میں اس محبت کی چنگاری پیدا ہو۔جو ہر نیک عمل کی روح اور ہر اعلیٰ خلق کی جان ہے۔اور وہ اپنے محبوب آقا کے ارشادات کو دلی شوق و ذوق سے سنیں اور اپنے لئے حرز جان بنائیں اور خود میرے واسطے بھی وہ بخشش اور مغفرت اور شفاعت رسول کا موجب ہو۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ محرره 13 نومبر 1950ء) 2 مسئلہ ختم نبوت پر ایک مختصر رساله مسئلہ ختم نبوت کے متعلق موجودہ بحث اور اختلاف کے پیش نظر میرا ارادہ ہے کہ خدا کی توفیق سے ایک مختصر سا رسالہ لکھوں جس کا حجم کم و بیش چالیس صفحات کا ہو۔اس کے متعلق میرے دل میں کچھ عرصہ سے بار بار تحریک ہو رہی تھی۔کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ یہ ایک خاص خدمت کا وقت ہے اور وہی خدمت خدا کے حضور زیادہ مقبول اور زیادہ موجب ثواب ہوا کرتی ہے جو زمانہ کی ضرورت اور وقت کے تقاضے کے مطابق ہو۔اس کے ساتھ ساتھ بعض دوستوں کی طرف سے بھی اس کے متعلق تحریک ہوئی ہے۔پس اس ڈہری تحریک کی بناء پر میں نے خدا کی توفیق سے اس رسالہ کی تصنیف کا ارادہ کر لیا ہے۔لہذا جو دوست اس مسئلہ کے کسی خاص پہلو کی زیادہ وضاحت ضروری سمجھتے ہوں ( کیونکہ بیرونی دوستوں کو مخالفوں کے اعتراضوں کے سننے کا زیادہ موقع ملتا ہے ) وہ مجھے اپنا سوال لکھ کر بھجوا دیں۔انشاء اللہ اس کے متعلق مجوزہ رسالہ کی تحریر کے وقت خیال رکھا جائے گا۔بشرطیکہ یہ سوال ایسا ہو کہ اس کا جواب اختصار کے ساتھ دیا جا سکے۔ورنہ طویل رسالہ کی اس وقت گنجائش نہیں اور نہ موجودہ ماحول میں زیادہ مفید ہو سکتا ہے اور بڑی کتابوں کی اشاعت بھی مشکل ہوتی ہے۔موجودہ تجویز کے مطابق یہ رسالہ انشاء اللہ ذیل کے سات حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔(1) پیش لفظ جس میں مسئلہ نبوت کے متعلق جماعت احمد یہ اور دوسرے موجود الوقت مسلمانوں کے نظریہ