مضامین بشیر (جلد 3) — Page 88
مضامین بشیر جلد سوم 19 فدیہ کے مسئلہ کی اصولی تشریح 88 امداد درویشاں اور فدیہ کی رقم بھجوانے والوں کی فہرست الفضل میں شائع ہونے کے لئے بھجواتے وقت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے فدیہ کے مسئلہ کی اصولی تشریح کرتے ہوئے فرمایا۔فدیہ کے مسئلہ کے متعلق یہ اصولی وضاحت دوبارہ کی جاتی ہے کہ فدیہ عام بیماروں اور مسافروں کے لئے نہیں ہے۔بلکہ صرف ایسے لوگوں کے لئے ہے جو بڑھاپے کے ضعف یا دائم المریض ہونے کی وجہ سے یا عورتوں کی صورت میں رضاعت اور حمل کی لمبی تکلیف کی وجہ سے اپنی زندگی کو خطرہ میں ڈالنے کے بغیر روزہ نہیں رکھ سکتے۔اور انہیں اپنے ذاتی حالات کے ماتحت دوسرے ایام میں گنتی پوری کرنے کی امید بھی نہیں ہوتی ور نہ عام مریضوں اور مسافروں کے لئے فدیہ کا حکم نہیں ہے۔بلکہ دوسرے ایام میں گنتی پوری کرنے کا حکم ہے۔دوستوں کو یہ امتیاز ملحوظ رکھنا چاہئے تا کہ روزہ کا احترام قائم رہے۔روزنامه الفضل لا ہور 26 جون 1952ء) خیر خواہان پاکستان سے دردمندانہ اپیل خدا کیلئے وقت کی نزاکت کو پہچانو افسوس صد افسوس کہ قائد اعظم مرحوم کی وفات کے اتنی جلدی بعد ہی پاکستان میں ایک ایسا عنصر پیدا ہو رہا ہے جو اپنی تباہ کن پالیسی سے قائد اعظم کے زندگی بھر کے کام کو ملیا میٹ کرنے کے درپے ہے اور ایک دوسرا طبقہ اپنی سادہ لوحی میں اس فتنہ کو ہوا دے رہا ہے۔قائد اعظم نے اپنی ساری زندگی اس کوشش میں وقف کر رکھی تھی کہ تمام مسلمان کہلانے والے لوگ اپنے بعض مذہبی اختلافات کے باوجود سیاسی میدان میں ایک نقطہ پر جمع ہو جائیں۔چنانچہ ان کی یہ کوشش خدا کے فضل سے کامیاب ہوئی اور مسلمانوں نے پاکستان کے وجود میں قائد اعظم کی انتھک مساعی کا پھل پالیا۔لیکن افسوس ہے کہ قائداعظم کی آنکھیں بند ہوتے ہی ملک کے اس طبقہ نے جو اپنی گوناگوں اغراض کے ماتحت مسلمانوں کے سیاسی اتحاد میں اپنے مقاصد کی تباہی کے آثار دیکھ رہا ہے قائد اعظم کی اس پالیسی کے خلاف ملک میں افتراق وانشقاق کا بیج بونا شروع کر دیا ہے چنانچہ (1) کہا جاتا ہے کہ احمدیہ جماعت (نعوذ باللہ من ذالک) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی