مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 727 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 727

مضامین بشیر جلد سوم 727 کرنا ( جیسا کہ برطانیہ میں ہے ) اور دوائیوں کی قیمتوں کو گرانا اصل علاج ہے۔اسی طرح نادار والدین کے ذہین اور ہونہار بچوں کے لئے ابتداء سے ہی زیادہ فراخ دلی اور زیادہ کثرت کے ساتھ تعلیمی وظائف منظور کرنے اور فنی تعلیم سے مناسبت رکھنے والے طلباء کو قتی تعلیم دلانے اور سائنس کے علوم کو ترقی دینے سے بھی ملکی آبادی کے مسائل کے حل میں بھاری مددمل سکتی ہے۔قرآن مجید نے غریبوں اور یتیموں کی امداد کے لئے غیر معمولی طور پر تاکیدی احکام اسی غرض سے جاری کئے ہیں۔اور جاننا چاہئے کہ سائنس کی تعلیم دین کے خلاف نہیں ہے بلکہ جس طرح شریعت خدا کا قول ہے اسی طرح سائنس خدا کا فعل ہے اور دونوں میں کوئی تضاد ممکن نہیں۔اور اگر کسی حصہ میں تضاد نظر آتا ہے تو وہ یقیناً ہماری سمجھ کی غلطی ہے۔(29) یہ سب جائز اور مناسب بلکہ ضروری طریقے ہیں۔مگر برتھ کنٹرول کے ذریعہ اپنی نسل کو کاٹنا جن میں سے بعض پیدا ہونے والے بچے بالقوہ طور پر غیر معمولی قومی کے حامل نکل سکتے ہیں کسی طرح درست اور مناسب نظر نہیں آتا۔علاوہ ازیں برتھ کنٹرول کا طریقہ اس لحاظ سے بھی اعتراض کے نیچے آتا ہے کہ وہ ایک ایسی شاخ تراشی یعنی پرونگ Pruning کا رنگ رکھتا ہے جس میں شاخ کاٹنے والا بلا لحاظ اچھی یا بری اور بلالحاظ تندرست یا بیمار شاخ کے یونہی اندھا دھند شاخیں کاٹتا چلا جاتا ہے۔تجربہ اور مشاہدہ سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ مختلف انسانوں کے جسمانی اور دماغی قویٰ میں پیدائشی طور پر فرق ہوا کرتا ہے۔یعنی بعض اوقات ایک ماں باپ کا بچہ کند ذہن اور ادنی دماغی طاقتوں والا نکلتا ہے۔اور دوسرے ماں باپ کا بچہ بلکہ بعض اوقات انہی ماں باپ کا دوسرا بچہ ایسے اعلیٰ قومی لے کر پیدا ہوتا ہے کہ گویا گھر میں ایک سورج چڑھ آیا ہے۔ایک بچہ رینگنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا اور دوسرا بچہ فضا کی پرواز میں شاہین اور عقاب کو مات کرتا ہے۔لیکن برتھ کنٹرول کی اندھی چھری کو ان دونوں قسم کے بچوں میں امتیاز کرنے کی کوئی صلاحیت حاصل نہیں ہوتی۔بالکل ممکن ہے کہ برتھ کنٹرول کی چھری ایک اعلیٰ دماغی طاقتوں والے آفتابی بچے کو قبل پیدائش ہی ذبح کر کے رکھ دے۔اور ایک کند ذہن بچے بلکہ ایک نیم مجنون اور شاہ دولے کے چوہے کی پیدائش کا رستہ کھول دے۔اس کے مقابل پر جو قانون خدا نے نیچر میں جاری فرمایا ہے جسے انگریزی میں سروائیول آف دی فلسٹ (Survival of the fittest) کہتے ہیں۔وہ ایک بینا اور عاقل سرجن کا رنگ رکھتا ہے جو صرف کمز ور شاخ کو کا تھا اور بڑھنے والی اور پھل دینے والی شاخوں کے پینے کا رستہ کھولتا ہے۔اس لئے وہی اس بات کا حق دار ہے کہ اسے اختیار کیا جائے۔قرآن مجید نے بھی اسی اصول کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے: