مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 717 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 717

مضامین بشیر جلد سوم 717 یعنی اے مسلمانو! اپنی اولاد کو غربت اور تنگی کے ڈر سے قتل نہ کیا کرو تمہیں اور تمہاری اولاد کو رزق دینے والے ہم ہیں۔اور یا درکھو کہ اولاد کوقتل کر ناخدا کی نظر میں ایک بہت بڑی خطا کاری ہے۔(ب) پھر فرماتا ہے: وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقِ ، نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ (الانعام: 152) یعنی اپنی اولاد کو غربت اور رزق کی تنگی کی وجہ سے قتل نہ کرو۔تمہیں اور تمہاری اولادکو رزق دینے والے ہم ہیں۔اور دیکھو اس ذریعہ سے بے حیائی پیدا ہونے کا بھی خطرہ ہے اور تمہیں بے حیائی کے قریب تک نہیں جانا چاہئے۔خواہ کوئی بے حیائی ظاہر میں نظر آنے والی ہو یا یہ کہ پوشیدہ ہو۔اس لطیف آیت میں رزق کی تنگی والی دلیل کو ر ڈ کرنے کے علاوہ اس گہری حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ برتھ کنٹرول کا طریق بعض صورتوں میں عیاشی اور بے حیائی کی طرف لے جاتا ہے اور مسلمانوں کو اس معاملہ میں بہت محتاط اور چوکس رہنا چاہئے۔(ج) نیز فرماتا ہے: قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهَا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّحَرَّمُوْا مَارَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءٌ عَلَى الله (الانعام: 141) یعنی وہ لوگ یقیناً گھاٹے اور نقصان میں ہیں جو اپنی اولاد کو صحیح علم رکھنے کے بغیر جہالت سے قتل کرتے ہیں اور اس نعمت ( یعنی اولاد ) کو اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں جو خدا نے ان کے لئے مقدر کی ہے۔یہ خدا کے نزدیک ایک جھوٹا طریق ہے اور خدائی منشاء کے خلاف ہے۔(د) اسی طرح فرماتا ہے: وَكَذلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ (الانعام: 138) یعنی جو لوگ مشرک ہیں اور خدا کی طاقتوں پر ایمان نہیں لاتے ہیں اور اس کے مقابل پر خیالی بت کھڑے کرتے رہتے ہیں ان میں سے بہت سے لوگوں کو ان کے فرضی خدا ان کی اولادوں کا قتل کیا جانا اچھے رنگ میں ظاہر کر کے دکھاتے ہیں اور وہ اس کے حق میں دلیلیں گھڑ گھڑ کے خوش ہوتے ہیں۔(13) اوپر کی درج شدہ احادیث اور قرآنی آیات سے اس شبہ کا بھی ازالہ ہو جاتا ہے جو اس موقع پر بعض لوگ کیا کرتے ہیں کہ کسی پیدا شدہ بچے کو مارنے اور پیدا ہونے سے پہلے برتھ کنٹرول کے ذریعہ کسی بچہ