مضامین بشیر (جلد 3) — Page 692
مضامین بشیر جلد سوم 692 وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِنْ سُلَلَةٍ مِّنْ طِيْنِ ، ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِيْنِه ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَمًا فَكَسَوْنَا الْعِظَمَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (المومنون: 13-15) یعنی ہم نے انسان کو ابتداء مرطوب مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا۔پھر اسے ایک محفوظ قرارگاه ( یعنی رحم مادر ) میں نطفہ کے طور پر رکھا۔پھر ہم نے اس نطفہ کو ایک ڈھیلے ڈھالے چپکنے والے لوتھڑے کی صورت دی۔پھر اس ڈھیلے ڈھالے لوتھڑے کو پیوست بوٹی کی شکل میں منتقل کیا۔پھر اس بوٹی میں ہڈیاں بنائیں۔پھر ان ہڈیوں پر گوشت پوست کا خول چڑھایا اور پھر اس وجود کو ایک نئی مخلوق کی صورت میں بنا کھڑا کیا۔پس لوگو! دیکھو کہ تمہارا خدا کیسا با برکت اور کیسا بہترین خالق ہے۔جسم اور روح کی پیدائش کے مختلف مراحل اس لطیف آیت میں خداوند عالم نے انسان کے جسم اور اس کی روح دونوں کی پیدائش کو نہایت لطیف رنگ میں اس کے مختلف مدارج کی تشریح کے ساتھ بیان کیا ہے۔اولاً اس آیت میں جسم کی پیدائش کو مٹی کے خلاصہ سے لے کر نطفہ اور پھر ڈھیلے ڈھالے لوتھڑے اور پھر پیوست بوٹی اور پھر ہڈی اور پھر گوشت پوست کے خول تک درجہ بدرجہ مکمل کرنا بیان کیا گیا ہے۔اور اس کے بعد روح کی پیدائش کا اس جسم میں سے خلقاً اخر ( یعنی ایک نئی پیدائش) کے الفاظ سے ذکر کرتے ہوئے اور اس کے ساتھ انشَأْنه (یعنی بنا کھڑا کیا) کا لفظ لگا کر اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان میں یہ روح ہی ہے جو اسے دوسرے جانداروں سے ممتاز کر کے اور حیوانوں کے زمرہ میں سے نمایاں کر کے علیحدہ صف میں کھڑا کر دیتی ہے۔پس اسلام کی تعلیم کے مطابق روح در اصل جسم ہی کا ایک ترقی یافتہ جو ہر ہے جو انسانی جسم کی تکمیل کے بعد اس کے اندر سے ایک نئی اور ارفع مخلوق کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔اور آریہ سماج کی طرح یہ خیال ہرگز درست نہیں کہ روح ایک بیرونی چیز ہے جو باہر سے آکر انسانی جسم میں داخل ہو جاتی ہے۔تو جب روح انسانی جسم ہی کا ایک ترقی یافتہ حصہ ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا تعلق جسم کے ساتھ جو اس کے لئے بطور پیج یا باپ کے ہے کبھی بھی کامل طور پر منقطع نہیں ہو سکتا اور کسی نہ کسی صورت میں ضرور قائم رہتا ہے۔اسی لئے حدیث میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے مرنے اور اس کی روح کے پرواز کر جانے اور اس کے جسم کے بظاہر کھلی طور پر فنا ہو جانے کے بعد بھی اس کے جسم کا ایک نہ نظر آنے والا حصہ جسے گویا ایٹم یا