مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 553 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 553

مضامین بشیر جلد سوم 553 یعنی مخالفوں کے ساتھ دینی جہاد کرنے میں بہترین اور پختہ ترین اور مؤثر ترین دلائل اختیار کرو اور یونہی سطحی باتوں میں الجھ کر اپنی ہنسی نہ اڑاؤ۔تحقیقی مضمون لکھنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ پہلے ایک موضوع کی جو کسی حقیقی حاضر الوقت ضرورت کے مطابق ہو چن کر اسے اپنے ذہن میں مستحضر رکھا جائے اور اس پر کچھ وقت تک غور کیا جائے۔پھر قرآن اور حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے بنیادی لٹریچر کا مطالعہ کر کے اس مضمون کے نوٹ لئے جائیں اور انہیں ترتیب وار مرتب کیا جائے۔پھر جو امکانی اعتراضات اس مضمون کے متعلق دوسروں کی طرف سے ہوئے ہوں یا ہو سکتے ہوں انہیں ذہن میں رکھ کر ان کا جواب سوچا جائے۔پھر ایک عمومی خا کہ اس امر کے متعلق اپنے دماغ میں قائم کیا جائے کہ اس مضمون کو کس طرح شروع کرنا ہے اور کس طرح چلانا اور کس طرح ختم کرنا ہے۔آغاز اس طرح ہونا چاہئے کہ مضمون پڑھنے والا اس کی نوعیت اور اہمیت کو محسوس کر کے اس کے لئے ذہنی طور پر تیار اور چوکس ہو جائے اور اختتام اس رنگ میں سوچا جائے کہ گویا چند تیر ہیں جو آخری ضرب کے طور پر پڑھنے والے کے دل میں پیوست کرنے مقصود ہیں۔اس کے بعد نوٹ سامنے رکھ کر دعا کرتے ہوئے مضمون شروع کیا جائے۔اور ہر ضروری اقتباس کے اختتام پر بریکٹوں کے اندر معین حوالہ درج کیا جائے تا اگر مضمون پڑھنے والا اس بارے میں مزید تحقیق کرنا چاہے تو از خود تحقیق کر کے تسلی کر سکے۔مضمون ختم کرنے کے بعد نظر ثانی بہت ضروری ہے اور نظر ثانی کے لئے بہترین طریق یہ ہے کہ اپنے مضمون کو علیحدگی میں اونچی آواز سے پڑھا جائے تاکہ آنکھوں کی فطری حس کے علاوہ کان بھی اپنی قدرتی موسیقی کو کام میں لا کر اصلاح میں مدد دے سکیں۔میں نے بار ہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس رنگ میں اپنی تحریرات کو پڑھتے دیکھا اور سنا ہے۔اور آپ اپنے مضامین کی نظر ثانی بھی ضرور فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ آپ کے مسودات کی عبارت کئی جگہ سے کئی ہوئی اور بدلی ہوئی نظر آتی تھی اور ایسا نہیں ہوتا تھا کہ بس جو لکھا گیا سولکھا گیا۔بلکہ آپ اس غرض سے اور نیز صحت کی غرض سے اپنی کتب کی کاپیاں اور پروف تک بھی خود ملا حظہ فرماتے تھے۔مضمون شروع کرنے سے پہلے نیت درست کرنے اور خدمت دین کے جذبہ کو اپنے دل میں جگہ دینے اور دعا کرنے کا میں نے یہ عظیم الشان فائدہ دیکھا ہے کہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ غیر معمولی رنگ میں نصرت فرماتا ہے۔مثال کے طور پر کہتا ہوں کہ ایک دفعہ جب میں نے اپنے ایک مضمون کی پہلی سطر ہی لکھی تھی تو یکلخت مجھ پر کشفی حالت طاری ہوگئی اور میں نے دیکھا کہ صفحہ کے آخری حصہ میں جو اس وقت خالی تھا ایک خاص عبارت لکھی ہوئی درج ہے اور مجھے توجہ دلائی گئی کہ اپنے اس مضمون کو