مضامین بشیر (جلد 3) — Page 554
مضامین بشیر جلد سوم 554 اس عبارت کے مضمون کی طرف کھینچ لا۔چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا جس کی وجہ سے مضمون میں ایک نیا اور دلکش رنگ پیدا ہو گیا۔بعض اوقات ایسا ہوا کہ میں نے مضمون کا ایک ڈھانچہ سوچ کر نوٹ کیا مگر بعض حصوں میں مضمون لکھتے لکھتے میرا قلم خود بخود ایک نئے رستہ پر پڑ گیا اور بالکل نئی باتیں ذہن میں آگئیں۔چنانچہ جو ڈھانچہ میں شروع میں سوچا کرتا ہوں عموماً اس کا نصف یا اس سے کچھ کم حصہ مضمون لکھتے ہوئے بہتر صورت میں بدل جایا کرتا ہے۔یہ سب دعا اور حسن نیت اور اللہ کے فضل کا ثمرہ ہے ورنہ من آنم کہ من دانم۔بایں ہمہ شروع کی تیاری بہت ضروری ہے کیونکہ یہ تیاری بھی نصرت الہی کی جاذب ہوا کرتی ہے۔یہ سوال کہ علمی اور حقیقی تصانیف کے لئے کن مضمونوں کو چنا جائے ،ایک بہت اہم سوال ہے مگر باوجود اس کے وہ کچھ مشکل بھی نہیں۔ہمارے سامنے ہمارے آسمانی آقا کی سنت موجود ہے جس کا ہر فعل حکمت پر مبنی ہوتا ہے اور وقت کی حقیقی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔دراصل اگر کوئی کام وقت کی ضرورت کے مطابق نہ ہو تو وہ ایک کھو کھلے فلسفہ اور دماغی کھلونے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور خدا کی ذات اس قسم کے لایعنی فلسفہ سے بالا ہے۔اگر خدا چاہتا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائے آفرینش میں ہی پیدا کر سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا کیونکہ ابھی بنی نوع انسان اپنے دماغی قومی اور ماحول کے تمدن کے لحاظ سے کسی دائمی اور عالمگیر شریعت کے حامل بننے کے اہل نہیں تھے۔پس اس نے فلسفہ کو چھوڑ کر حکمت کا رستہ اختیار کیا اور یہی رستہ ہمارے لئے بھی کھلا ہے۔پس مضمون کے انتخاب کے متعلق میرا یہ مشورہ ہے کہ صرف ان مضمونوں کو چنا جائے جو حکیمانہ طریق پر وقت کی کسی اہم ضرورت کو پورا کرنے والے ہوں اور دنیا ان مضمونوں کے لئے پیاسی ہو۔اور اس تعلق میں یہ خیال روک نہیں بننا چاہئے کہ کسی مضمون پر کچھ عرصہ پہلے لکھا جاچکا ہے۔کیونکہ زمانہ کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور نہ صرف نئے نئے مسائل بلکہ پرانے مسائل کے نئے نئے پہلو بھی پیدا ہوتے اور سامنے آتے رہتے ہیں۔کئی مضامین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لکھے گئے اور نہایت تسلی بخش صورت میں لکھے گئے اور انہوں نے دنیا کی پیاس بجھائی مگر آج ان مسائل کے نئے نئے پہلو پیدا ہو چکے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ان پر سوچنا اور ان کے متعلق قرآن وحدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لٹریچر اور دیگر بنیادی لٹریچر سے اصولی روشنی حاصل کر کے زمانہ کے نئے مسائل کو حل کرنا یا پرانے مسائل کی نئی گتھیوں کو سلجھانا جماعت کے خادمِ دین علماء کا کام ہے۔اقوامِ عالم