مضامین بشیر (جلد 3) — Page 535
مضامین بشیر جلد سوم 535 دوسرے یہ کہ نبوت کے کام کی تکمیل کیلئے اس کی ضرورت باقی ہو اور چونکہ یہ دونوں باتیں خدا تعالیٰ کے مخصوص علم سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے کسی دور میں خلافت کے زمانہ کا علم بھی صرف خدا کو ہی ہو سکتا ہے۔قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نبوت کے متعلق فرماتا ہے اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُر سَالَتَهُ (الانعام: 125) یعنی اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کس کے سپر د کرے اور چونکہ خلافت کا نظام بھی نبوت کے نظام کی فرع ہے اس لئے اس کے لئے بھی یہی قانون نافذ سمجھا جائے گا جو اس لطیف آیت میں نبوت کے متعلق بیان کیا گیا ہے۔اب چونکہ حیث کا لفظ جو اس آیت میں رکھا گیا ہے عربی زبان میں ظرف مکان اور ظرف زمان دونوں طرح استعمال ہوتا ہے اس لئے اس آیت کے مکمل معنی یہ بنیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس بات کو بہتر جانتا ہے کہ نبوت اور اس کی اتباع میں خلافت پر کس شخص کو فائز کرے اور پھر کس عرصہ تک کے لئے اس انعام کو جاری رکھے ؟ پس جب تک کسی الہی جماعت میں خلافت کی اہلیت رکھنے والے لوگ موجودرہیں گے اور پھر جب تک خدا کے علم میں کسی الہی جماعت کے لئے نبوت کے کام کی تکمیل اور اس کی تخمریزی کے نشو ونما کی ضرورت باقی رہے گی ، خلافت کا سلسلہ جاری رہے گا۔اور اگر کسی وقت ظاہری اور تنظیمی خلافت کا دور دبے گا تو اس کے مقابل پر اسلام کی خدمت کیلئے روحانی خلافت کا دور اُبھر آئے گا اور اس طرح انشاء اللہ اسلام کے باغ پر کبھی دائگی خزاں کا غلبہ نہیں ہوگا۔وَ ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْحَكِيم وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ - (ماہنامہ الفرقان خلافت راشدہ نمبر جولائی 1958 ء)۔۔۔۔۔۔۔۔۔18 ہماری بھا وجہ صاحبہ کا انتقال ہماری بھا وجہ صاحبہ سیدہ ام ناصر احمد کی وفات کو جماعت میں جس رنگ میں محسوس کیا گیا ہے وہ ان کی غیر معمولی ہر دل عزیزی اور نیکی اور تقویٰ کا ایک بین ثبوت ہے۔ہر چند کہ گزشتہ چند دن سے ان کی بیماری کے متعلق الفضل میں اعلانات چھپ رہے تھے اور بیماری کے تشویشناک پہلو کے متعلق بھی اشارات کافی واضح تھے پھر بھی ان کی وفات کی خبر ایک اچانک صدمہ کے رنگ میں محسوس کی گئی۔جس نے اس کی تلخی کو بہت بڑھا دیا۔مگر اس حادثہ کا زیادہ تلخ پہلو یہ ہے کہ بعض ناگزیر حالات کی وجہ سے اور کسی قدر نامکمل اطلاعات کی بناء پر مرحومہ کے زندگی بھر کے رفیق حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بصرہ بھی جو اس وقت نخلہ میں تشریف رکھتے تھے ان کی زندگی میں مری نہیں پہنچ سکے اور یہ حسرت دونوں کے دلوں میں رہی ہوگی کہ اس