مضامین بشیر (جلد 3) — Page 502
مضامین بشیر جلد سوم 502 باقی رہا حضرت خلیفہ اول کی عزت و اکرام کا سوال سو جھوٹا ہے وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ میرے دل میں ان کی عزت نہیں۔میرے دل میں خدا کے فضل سے حضرت خلیفہ اول کی بے حد عزت ہے۔اور آپ کے علم و ایمان اور توکل وایقان کے بعض پہلو اتنے نمایاں ہیں کہ ان کے تصور سے بھی انسان کے دل میں ایک وجدانی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔اور میں حضرت خلیفہ اول کے لئے اپنے دل میں خاص محبت پاتا ہوں۔اور انہیں اس تمام تعریف کا مستحق سمجھتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف کتب میں ان کی فرمائی ہے۔پس اسلم پرویز نے مجھ پر الزام لگا کر انتہائی ظلم اور افتراء سے کام لیا ہے کہ میں حضرت خلیفہ اول کی عزت نہیں کرتا۔مگر میں پھر کہتا ہوں کے درجہ کا فیصلہ صرف خدا کے ہاتھ میں ہے اور افضل وہی ہے جسے خدا افضل قرار دے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا کا مرسل و مامور ہوتے ہوئے فرمایا ہے کہ ماہمہ پیغمبراں را چاکریم تو خاکسار جو سب کا خادم ہے کس حساب میں ہے۔کاش اسلم پرویز یہ نا پاک اور مفتریا نہ مضمون لکھ کر ہمارا دل نہ دکھاتے۔وہ یا درکھیں کہ ان کے سر پر ایک خدا ہے جس کے سامنے وہ ایک دن پیش کئے جائیں گے جہاں جھوٹوں کے لئے رونا اور دانت پیسنا ہوگا۔بالآخر میں اس بات کے کہنے سے بھی رک نہیں سکتا کہ کیا اہل پیغام کے لئے یہ شرم کا مقام نہیں کہ جہاں ہم لوگ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں بھی اور اس کے بعد بھی حضور کے عقیدت مندوں اور حلقہ بگوشوں میں شامل رہے ہیں۔وہاں اہلِ پیغام نے حضرت خلیفہ اول کی خلافت کا قریباً سارا زمانہ حضور کے خلاف خفیہ ریشہ دوانیوں اور گاہے گاہے کی کھلی سرکشی میں گزارا اور حضور کو خلافت سے معزول کرنے کی ناپاک کوشش کرتے رہے۔مگر جب آپ وفات پاگئے تو مجاوروں کا روپ دھار کر آپ کی قبر کو پوجنے کے لئے آگے آگئے۔یہ وہ حقائق ہیں جنہیں شاید اسلم پرویز نہ جانتے ہوں کیونکہ وہ بعد کے نسلی احمدی معلوم ہوتے ہیں۔پرانے لوگ سب جانتے ہیں اور سب سے بڑھ کر خدا جانتا ہے اور وہ ساری قدرت رکھتا ہے۔وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَى مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ (الشعراء: 228) وَأَخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - ( محررہ 11 مارچ 1958 ء) روزنامه الفضل ربوہ 16 مارچ 1958ء)