مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 501 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 501

مضامین بشیر جلد سوم 501 اصلاح کی غرض سے مخاطب کیا ہے ان کے متعلق میں نے کہاں لکھا ہے کہ اس سے صرف دوسرے احمدی مراد ہیں ہمارے خاندان کے نوجوان مراد نہیں۔لاریب اگر ہمارے خاندان کے کسی فرد میں کوئی کمزوری پائی جاتی ہے تو وہ بھی میرے مضمون میں اسی طرح مخاطب ہے جس طرح کہ دوسرے احمدی نوجوان مخاطب ہیں۔مگر اسلم پرویز صاحب کی آنکھیں کون کھولے۔میں سوتے ہوئے کو جگا سکتا ہوں لیکن جاگتے کو جگانا میرے بس کی بات نہیں۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے نو جوانوں سے بھی اصولی رنگ میں کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ کس طرح لوگوں کی آنکھیں ان پر لگی ہوئی ہیں پس انہیں چاہئے کہ وہ اپنے نفسوں کا محاسبہ کرتے ہوئے جماعت کے لئے ہمیشہ اعلیٰ نمونہ بننے کی کوشش کریں۔یقیناً اگر انہوں نے نیکی اور تقویٰ کا رستہ اختیار کیا اور خدا کے ساتھ مضبوط پیوند رکھا تو جیسا کہ اصولی رنگ میں قرآن فرماتا ہے وہ دُہرے اجر کے مستحق ہوں گے۔لیکن دوسری صورت میں ان کے لئے نعوذ باللہ گرفت بھی دُہری ہے۔پس ان کو اپنی غیر معمولی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے ہوشیار اور چوکس رہ کر پاک زندگی گزارنی چاہئے۔اسلم پرویز صاحب کا آخری اعتراض یہ ہے کہ میں نے اپنے کسی مضمون میں خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ کے مقابلہ پر حضرت خلیفہ اسی اول کو ہر لحاظ سے ادنی اور فروتر قرار دیا ہے۔اور مختلف رنگوں میں حضرت خلیفہ اول کی توہین کی ہے۔بلکہ اسلم صاحب نے یہاں تک لکھا ہے کہ ربوہ کی جلسہ گاہ میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی سوانح حیات کو پاؤں کے نیچے مسلا گیا۔میں اس کے جواب میں لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الكاذِبین کے سوا کیا کہ سکتا ہوں؟ در جوں کا معاملہ تو صرف خدا تعالیٰ جانتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سید ولد آدم ہوتے ہوئے مسلمانوں کو ادب سکھانے کی غرض سے فرماتے ہیں کہ لَا تُفَضِّلُوا بَعْضَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَى بَعْضٍ یعنی اے مسلمانو! تم اپنی طرف سے خدا کے نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو۔بلکہ اس معاملہ کو خدا اور رسولوں پر چھوڑ دو جو اس قسم کی فضیلت بیان کرنے کے اصل حق دار ہیں۔اور دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں کہ لَا تُفَضِّلُونِي عَلى يُونَسَ بُن متی۔یعنی مجھے یونس بن متی پر فضیلت نہ دو۔کیونکہ یونس کو یہ جزوی فضیلت حاصل تھی کہ اس کی ساری قوم اس کی زندگی میں ہی ایمان لے آئی۔مگر میری ساری قوم نے ابھی تک مجھے نہیں مانا۔پس فضیلت کا معاملہ بہت نازک ہے۔اس کا حقیقی حج صرف خدا ہے۔ہاں جس شخص کی فضیلت خدا بیان کر دے یا رسول صراحت فرما دے تو وہ بے شک افضل ہے۔