مضامین بشیر (جلد 3) — Page 381
مضامین بشیر جلد سوم 381 محب رسول اور خادم دین متین کے لئے اعتراض کا موجب نہیں ہوسکتا بلکہ فخر کا موجب ہونا چاہئے۔بہر حال اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ میں نعوذ باللہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی تذلیل اور تحقیر مقصود نہیں اور خدا جانتا ہے کہ ہرگز نہیں تو یقیناً حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے اوپر درج شدہ الفاظ میں بھی حضرت خلیفہ اول کی تذلیل اور تحقیر مقصود نہیں، اور ہر گز نہیں۔وَ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَلِكُلِّ امْرِ مَانَوَى اس مثال کے بیان کرنے سے میرا یہ مطلب نہیں کہ حضرت خلیفہ البیع الثانی ایدہ اللہ کا کام تو ساری دنیا کے لئے ہے اور حضرت خلیفہ اول کا کام صرف ایک محدود حلقہ کے لئے تھا بلکہ میں نے یہ مثال ایک اصولی تشریح کے لئے بیان کی ہے۔ورنہ اپنے آقا کی اتباع میں حضرت خلیفہ اول کا حلقہ کار بھی ساری دنیا کے لئے تھا۔مگر اس وقت چونکہ جماعت کے کام کی ابتدا تھی اس لئے وہ طبعا ایک قلیل دائرہ میں محدودرہا۔مگر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے وقت میں آکر وہ حضور کی خاص والہانہ کوششوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی پیشگوئیوں کے مطابق دنیا کے کناروں تک وسیع ہو گیا۔اور یقیناً: ع ایں سعادت بزور بازو نیست تا بخشد خدائے بخشنده یہ اسی قسم کی صورت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوحضور کی زندگی کے آخری ایام میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافتوں کے متعلق ایک رؤیا میں دکھائی گئی تھی۔چنانچہ ایک حدیث میں آپ فرماتے ہیں۔( بخاری کتاب فضائل صحابہ) کہ مجھے رویا میں دکھایا گیا کہ ایک کنوئیں سے پہلے حضرت ابوبکر نے ایک ڈول کے ذریعہ پانی نکالا اور لوگوں کو سیراب کیا مگر اس وقت یہ ڈول معمولی سائز کا تھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں اس ڈول کو کھینچتے ہوئے کچھ ضعف بھی محسوس ہوتا تھا۔مگر جب یہ ڈول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں گیا تو وہ ایک بہت بڑا ڈول بن گیا۔لیکن پھر بھی حضرت عمرؓ نے اسے طاقتور پہلوانوں کی طرح کھینچا اور ایک دنیا کو سیراب کر دیا۔یہ بھی ایک لطیف مماثلت ہے جو خدا نے قائم کر دی ہے۔فَافُهُمْ وَ تَدَبَّرُ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ دوسرا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے اسی خطبہ میں حضرت خلیفہ اول کی اولا د کا ذکر کرتے ہوئے اور اس تعلق میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد ابن ابی بکر کا ذکر فرماتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ: