مضامین بشیر (جلد 3) — Page 14
مضامین بشیر جلد سوم 14 كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِةٍ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَالِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ ايَتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (آل عمران: 104) یعنی اے مسلمانو ! خدا اور اس کے رسول کے فرمانبردار رہو اور آپس میں مت جھگڑ و کہ اس طرح تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔اور خدا کی اس نعمت کو یا درکھو کہ تم باہم دشمن تھے اور خدا نے تمہارے دلوں میں محبت پیدا کی۔اور تم اس کی اس نعمت کے نتیجہ میں بھائی بھائی بن گئے اور تم ایک آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچے ہوئے تھے۔مگر خدا نے تمہیں اس سے بچا لیا۔یہ خدا کی آیات ہیں جو تمہیں اس لئے سنائی جاتی ہیں کہ تم ان کے ذریعہ ہدایت کا رستہ پاؤ۔وَاخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ روزنامه الفضل لا ہور 2 فروری 1951ء 4 ایک بزرگ در ولیش کا القاء ربانی سب کو چھوڑ و خلیفے کو پکڑو حضرت بھائی چوہدری عبدالرحیم صاحب نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں ایک خط تحریر فرمایا جسے آپ نے الفضل میں اس تعارف کے ساتھ طبع فرمایا۔جس میں بھائی عبدالرحیم صاحب کے اوصاف درج ہیں۔ا بھی ابھی مجھے قادیان سے محترمی حضرت بھائی چوہدری عبدالرحیم صاحب کا خط ملا ہے۔بھائی صاحب ان خاص بزرگوں میں سے ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نے نہ صرف کفر کی تاریکی سے نکال کر اسلام کی روشنی سے منور کیا۔( محترم بھائی صاحب پہلے سکھ ہوتے تھے ) بلکہ احمدیت کی سعادت سے بھی نوازا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے (رفیق) ہونے کا شرف عطا فرمایا۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص الخاص فضل ہے جو ہمارے محترم بھائی صاحب پر ہوا۔اور بھائی صاحب نے بھی اس خدائی فضل کی پوری پوری قدر کی اور ذاتی تقوی اور نیکی کے علاوہ اپنی زندگی کو دین کی خدمت کیلئے ہمیشہ وقف رکھا۔بھائی صاحب خدا کے فضل سے صاحب کشوف و الہام ہیں اور آجکل قادیان میں درویشانہ