مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 331 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 331

مضامین بشیر جلد سوم 331 نگینہ پر تاریخ 1312 ہجری لکھی ہے۔گو یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ تاریخ الہام کی ہے یا کہ انگوٹھی بننے کی۔تیسری انگوٹھی جو عزیزم شریف احمد صاحب کے حصہ میں آئی تھی اس پر مولی بس“ کے الفاظ کندہ ہیں۔اس کا واقعہ یوں ہے کہ ضلع سیالکوٹ کے ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام میں حضور کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ میں ایک انگوٹھی بنا کر حضور کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ، اس پر کیا الفاظ لکھے جائیں ؟ جس پر حضور نے ”مولی بس“ کے الفاظ فرمائے۔وفات کے وقت یہ انگوٹھی حضور کے ہاتھ میں پہنی ہوئی تھی اور غالبا اس کے الفاظ بھی حضور نے اپنے قرب وفات کے الہامات کی بناء پر ہی تجویز فرمائے تھے اور میں خیال کرتا ہوں کہ ان تینوں انگوٹھیوں کے الفاظ اپنے اندر بعض خاص اشارات رکھتے ہیں۔جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں قرعہ اندازی حضرت ام المومنین نوراللہ مرقدھا کی تجویز پر انہی کے ہاتھ سے ہوئی تھی۔تین مختلف کاغذوں پر تینوں انگوٹھیوں کے نگینوں کی عبارت لکھی گئی اور کاغذوں کو تہ کر دیا گیا اور پھر حضرت اماں جان نے دعا کے ساتھ پہلا کاغذیہ کہتے ہوئے اٹھایا کہ یہ انگوٹھی محمود کی ہوگی اور کاغذ کھولنے پر یہ انگوٹھی الیس الله بکاف عَبْدَهُ والی نکلی۔پھر دوسرا کا غذ یہ کہتے ہوئے اٹھایا کہ یہ انگوٹھی بشیر کی ہوگی اور قرعہ کا کاغذ کھولنے پر اس میں غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِى رَحْمَتِی وَ قُدْرَتِی والا الهام درج شده نکلا۔اور تیسرا قرعہ ” مولی بس والا عزیزم میاں شریف احمد صاحب کا قرار پایا اور جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ نے خطبہ میں فرمایا تھایہ قرعہ اندازی غالبا تین دفعہ ہوئی اور ہر دفعہ یہی نتیجہ نکلا۔قرعوں کے کاغذ حنائی رنگ کے دبیز ٹکڑے تھے۔جو حضرت اماں جان نے اپنے پاس محفوظ کر لئے تھے اور اس کے کچھ عرصہ بعد مجھے دے دیئے تھے اور خدا کے فضل سے اب تک میرے پاس محفوظ ہیں۔میں ان ہرسہ کاغذوں کا عکس بصورت چر بہ ذیل میں درج کرتا ہوں تا ایک تو احمدیت کی تاریخ میں محفوظ ہو جائیں اور دوسرے ہمارے دوست ان کے دیکھنے سے روحانی حظ اٹھا سکیں اور دعاؤں کی بھی تحریک ہو۔غرست لک بیدی رحمتی و قدرتی بشیر احمد الیس الله بکاف عبده محمود احمد مولابس شریف احمد میرے والی انگوٹھی میں اختصار کے خیال سے عبارت صرف " غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِي رَحْمَتِي وَ قدرتی“ لکھی ہے۔لیکن جیسا کہ انگوٹھی کے نگینہ سے ظاہر ہے پوری عبارت " اذْكُرُ نِعْمَتِيَ الَّتِي