مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 310 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 310

مضامین بشیر جلد سوم 310 چادروں میں لپٹا ہوا نازل ہوگا۔(اس کے آگے مسیح کے ہاتھ سے دجال کے قتل کا ذکر آتا ہے ) اس حدیث کا یہ لطیف پہلو یا درکھنا چاہئے کہ اس میں پہلے مسیح کی بعثت کا ذکر آتا ہے اور اس کے بعد نزول کا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں۔قَدْ أُشِيرَ فِي بَعْضِ الْأَحَادِيثِ أَنَّ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ وَالدَّجَّالَ الْمَعْهُودَ يَظْهَرَانِ فِي بَعْضِ الْبِلَادِ الْمَشْرِقِيَّةِ يَعْنِي فِى مُلْكِ الْهِنْدِ ثُمَّ يُسَافِرُ الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ أَوْ خَلِيفَةٌ مِنْ خُلَفَائِهِ إِلَى الْأَرْضِ دِمَشْقَ فَهَذَا مَعَنى الْقَوْلِ الَّذِي جَاءَ فِي حَدِيثِ مُسْلِمٍ أَنَّ عِيسَى يَنْزِلُ عِنْدَ مَنَارَةِ دَمِشْقَ فَإِنَّ النَّزِيلَ هُوَ الْمُسَافِرُ الْوَارِدُ مِنْ مُلْكَ آخَر - حمامة البشری روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 225) یعنی بعض احادیث میں اشارہ آیا ہے کہ مسیح موعود اور دجال بعض مشرقی بلاد میں ظاہر ہوں گے (یعنی ہندوستان میں) پھر مسیح موعود یا اس کے خلیفوں میں سے کوئی خلیفہ دمشق کی طرف سفر کرے گا پس یہی معنی اس حدیث کے ہیں جو صحیح مسلم میں آئی ہے۔یہ کہ عیسی مسیح دمشق کے منارہ پر نازل ہوگا۔کیونکہ نزیل اس مسافر کو کہتے ہیں جو کسی مقام پر کسی دوسرے ملک سے آکر وقتی قیام کرے۔ان دونوں حوالوں کو یکجائی نظر دیکھنے سے پتہ لگتا ہے کہ یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ دونوں کے وجود میں بڑی صفائی کے ساتھ پوری ہوئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود میں تو یہ پیشگوئی معنوی اور باطنی رنگ میں پوری ہوئی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضور کو دمشق کے شرقی علاقہ قادیان میں جو عین اسی عرض بلد میں واقع ہے جس میں کہ دمشق واقع ہے مبعوث کیا اور آپ کو دلائل و براہین کا ایک ایسا سفید اور بلند منارہ بھی عطا کیا جس نے سارے مخالفوں پر حجت پوری کر دی اور پھر آپ کو جسم کے ہر دو حصوں میں دو بیماریاں بھی لاحق تھی۔جوگو یا دوز رد چادروں کی قائمقام تھیں۔اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے وجود میں یہ پیشگوئی اپنی ظاہری صورت میں پوری ہوئی۔کیونکہ آپ بذات خود دمشق تشریف لے گئے اور گئے بھی ہوائی جہاز کے ذریعہ جونزول کے ظاہری مفہوم کو پورا کرتا ہے اور پھر گئے بھی ایسی حالت میں کہ اس وقت آپ کو بھی دو بیماریاں لاحق تھیں۔ایک بیماری جسم کے نچلے حصہ میں نقرس کی تھی اور دوسری جسم کے اوپر کے حصہ میں فالج کے باقی ماندہ اثر یا بعض ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق اعصابی تکلیف کا اثر تھا۔اس پیشگوئی کا یہ دہرا ظہور ایسا ظاہر وعیاں ہے کہ کوئی