مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 307 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 307

مضامین بشیر جلد سوم 307 کر دیا ہے۔کہ بسا اوقات ایک دوست کی جدائی بیمار دوستوں کے لئے خاص دعا کی محرک بن جاتی ہے۔( محررہ 27 اگست 1955ء)۔۔۔۔۔۔۔( روزنامه الفضل 3 ستمبر 1955ء) مولوی عبد المغنی خان صاحب مرحوم گزشتہ ایام میں پرانے بزرگوں اور دوستوں کی اس طرح اوپر تلے وفات ہوئی ہے کہ زندگی میں گویا زلزلہ وارد ہو گیا ہے۔سب سے پہلے حضرت اماں جی حرم حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور طبعا اس کا انتہائی صدمہ ہوا۔اس کے بعد ماسٹر آسان صاحب دہلوی اور حکیم فضل الرحمن صاحب اور مولوی عبد المغنی خان صاحب چل بسے۔دراصل ملکی تقسیم اور ہجرت کے بعد پرانے بزرگوں کی اس طرح جلد جلد وفات ہوئی ہے کہ ہم اپنی پریشان حالی سے ان کا ذکر خیر بھی پوری طرح نہیں کر سکے۔ملکی تقسیم کے بعد حضرت اماں جان نور اللہ مرقدہا کی رحلت کے علاوہ صوفی غلام محمد صاحب سابق مبلغ ماریشس۔حضرت مولوی شیر علی صاحب۔منشی محمد اسمعیل صاحب سیالکوئی۔حافظ محمد ابراہیم صاحب۔مولوی عبدالرحیم صاحب غیر۔پیر منظور محمد صاحب۔پیر افتخار احمد صاحب۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب جالندھری سابق مہر سنگھ اور مولوی ذوالفقار علی خان صاحب اور بعض دوسرے دوست اور عزیز اس طرح اگلے جہان کی طرف منتقل ہوئے ہیں کہ جیسے گویا آسمان کے ستارے ٹوٹتے ہیں۔میں اس وقت چند الفاظ مولوی عبد المغنی خان صاحب مرحوم کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔مولوی صاحب مرحوم غالباً حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں 1912ء میں اپنے وطن قائم گنج ضلع فرخ آباد یوپی سے قادیان ہجرت کر کے آئے تھے اور پھر ملکی تقسیم کے بعد تک مسلسل خدمت سلسلہ میں مصروف رہے۔نہایت مخلص اور صابر اور شاکر بزرگ تھے۔نمازوں کے انتہا درجہ پابند اور نماز با جماعت کے دلی شائق تھے۔صاحب کشف ورڈ یا بھی تھے مگر اس کا ذکر کم کرتے تھے۔حضرت خلیفۃ امسیح الثانی ایده اللہ بنصرہ العزیز کے ساتھ نہایت درجہ اخلاص رکھتے تھے۔اور سلسلہ کی ہر چھوٹی بڑی خدمت کو بڑی توجہ اور سرگرمی سے ادا کرتے تھے۔ملکی تقسیم کے بعد انہیں اوپر تلے اپنے دو جوان بچوں (ایک لڑکی اور ایک لڑکے ) کی وفات کا صدمہ پہنچا۔مگر اس بندہ خدا نے اس صدمہ پر اتنے صبر سے کام لیا جو اسی کا حصہ تھا۔ان کے