مضامین بشیر (جلد 3) — Page 188
مضامین بشیر جلد سوم 188 استخارہ کے نتیجہ میں ایک بات لکھی تھی۔اور دوسرے دوست نے بالکل ہی دوسری بات کا مشورہ دیا تھا۔اور بعض نے اپنی خواہیں بھی بیان کی تھیں۔جو بظاہر ایک دوسرے کی نفیض تھیں۔میں تو خدا کے فضل سے اس ظاہری اختلاف کے فلسفہ کو سمجھتا تھا۔مگر میرے بعض عزیز اس پر بہت پریشان ہوئے کہ یہ کیا تماشہ ہے کہ ایک ہی معاملہ میں مختلف استخارہ کرنے والے بزرگوں کو مختلف بلکہ متضاد خوا میں آ رہی ہیں۔مثلاً ایک دوست کہتا ہے کہ مجھے استخارہ کے نتیجہ میں زید کے حق میں خواب آئی ہے اور دوسرا دوست کہتا ہے کہ مجھے استخارہ کے جواب میں عمر قابل ترجیح معلوم ہوا اور تیسر ادوست کہتا ہے کہ مجھے استخارہ کرنے پر خالد مقدم نظر آیا وغیرہ ذالک۔چونکہ یہ شبہ اکثر لوگوں کے دل میں پیدا ہوسکتا ہے۔اس لئے دوستوں کو اس کا جواب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔مگر اصل جواب دینے سے پہلے ایک اصولی بات کا بیان کرنا ضروری ہے۔وہ اصولی بات یہ ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے۔اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ مومنوں کی تربیت اور مخالفوں کے امتحان کی غرض سے آئندہ کی خبروں کے متعلق ایک حد تک اخفا کا پردہ رکھا کرتا ہے۔اور سوائے خاص حالات کے کامل انکشاف نہیں فرماتا۔اللہ تعالیٰ کا یہ حکیمانہ طریق عام لوگ تو الگ رہے، انبیاء تک کے حالات میں چلتا ہے۔چنانچہ انبیاء کی پیشگوئیوں میں بھی کم و بیش اخفا کا پردہ رہتا ہے۔اور اس قسم کا انکشاف نہیں ہوا کرتا جسے سورج کے طلوع ہونے سے تشبیہہ دے سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس اخفاء کی مثال یوں بیان فرمائی ہے کہ جیسے ایسی رات کی چاندنی ہو جس میں چاند کے ساتھ ساتھ کچھ بادل بھی ہوں۔جب کہ روشنی تو ہوتی ہے مگر اتنی تیز روشنی نہیں ہوتی کہ دیکھنے والوں اور نہ دیکھنے والوں میں کوئی امتیاز باقی نہ رہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ) یا جیسے کہ ایک حاملہ عورت کا حال ہوتا ہے جس کے متعلق یہ تو کہ سکتے ہیں کہ اس کے بچہ پیدا ہونے والا ہے۔مگر یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ بچہ لڑکی ہے یا کہ لڑکا۔(ازالہ اوہام ) پس جبکہ انبیا ء تک کے مکاشفات میں اخفاء کا پردہ ہوتا ہے تو عام لوگوں کی خوابوں اور الہاموں کے متعلق یہ امید کس طرح رکھی جا سکتی ہے کہ ان کی خواہیں ہر صورت میں نصف النہار کی طرح روشن ہونگی ؟ اس اصولی تشریح کے بعد یا درکھنا چاہئے کہ استخاروں کے نتیجہ میں بعض اوقات جو بظاہر متضاد خوا ہیں آتی ہیں ان کی بالعموم تین وجوہات ہوا کرتی ہیں۔متضاد خوابوں کی تین وجوہات پہلی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی سنت اختفاء کے ماتحت مختلف استخارہ کرنے والے لوگوں کو زیر استخارہ امر کے مختلف پہلو دکھا دیتا ہے۔مثلاً اگر کسی کی شادی کا سوال ہے اور اس میں مختلف لڑکوں یا لڑکیوں میں سے