مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 187 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 187

مضامین بشیر جلد سوم 187 دوسرے اس طرح کہ کوئی الہام یا رویا وغیرہ تو نہ ہو مگر استخارہ کرنے والے کا دل کسی بات پر تسلی پا جائے۔کیونکہ خدا کی مشیت بعض اوقات اس رنگ میں بھی ظاہر ہوا کرتی ہے کہ کوئی لفظی جواب نہیں ملتا۔مگر دل تسلی پا جاتا ہے۔تیسرے اس طرح کہ استخارہ کرنے والے کو اس کے عزیزوں یا دوستوں کی طرف سے کوئی ایسا مشورہ ہل جائے جو خدائی مشیت کے مطابق ہے۔کیونکہ یہ بھی حدیث نبوی بُرای که کی ایک بالواسطہ صورت ہے۔چوتھے۔یہ بھی ممکن ہے (اور ہمارے دوستوں کو اس پہلو کا بھی علم ہونا چاہئے۔ورنہ وہ ٹھوکر کھا سکتے ہیں) کہ دعا کی قبولیت کے رنگ میں استخارہ کا کوئی بھی ظاہری نتیجہ نہ نکلے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کسی مصلحت سے استخارہ کرنے والے کو اپنی عقل سے کام لینے کے لئے آزاد چھوڑ دے۔کیونکہ بہر حال خدا اپنے بندوں کے ماتحت نہیں بلکہ جس طرح وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو قبول کر سکتا ہے۔اسی طرح وہ کسی مصلحت کی بنا پر اپنے بندوں کی دعا کورڈ بھی کر سکتا ہے یا خاموش رہ سکتا ہے۔مگر اس صورت میں بھی استخارہ کرنے والے کو کم از کم دعا کی روحانی برکت ضرور حاصل ہو جائے گی۔اور خدائے رحیم و کریم یقینا اس بات سے خوش ہو گا کہ میرے بندے نے مجھے اپنا کارساز سمجھ کر پکارا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غالباً انہی تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اشعار تحریر فرمائے ہیں کہ تجھے دنیا میں ہے کس نے پکارا کہ پھر خالی گیا قسمت کا مارا تو پھر ہے کس قدر اُسکو سہارا کہ جس کا تو ہی ہے سب سے پیارا پہلے شعر میں تو عام لوگوں کا ذکر ہے جن کی دعا اگر رڈ بھی ہو جائے تو پھر بھی کوئی نہ کوئی رحمت کا پہلو پیدا کر کے رہتی ہے۔اور دوسرے شعر میں حضرت مسیح موعود نے خود اپناذ کر فرمایا ہے۔کیونکہ آپ کا سب کچھ خدا کا تھا اور خدا کی ساری رحمت آپ پر سایہ فگن تھی۔اسی لئے آپ دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ " تیرح رحمت ہے میرے گھر کا شہتیر ، یعنی میرا سارا کاروبار صرف تیری رحمت کے سہارے پر قائم ہے۔اب میں استخارہ کے مسئلہ کے متعلق ایک ایسے پہلو کو لیتا ہوں جو کئی نا واقف لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث ہو جاتا ہے۔بلکہ یہ حالت قریب کے زمانہ میں خود میرے گھر میں بھی پیش آئی ہے۔کچھ عرصہ ہوا میں نے ایک خانگی معاملہ میں بعض دوستوں اور بزرگوں کو استخارہ کے لئے لکھا تھا۔اس کے نتیجہ میں جو جوابات مجھے مختلف دوستوں کی طرف سے موصول ہوئے اُن میں سے اکثر بظاہر متضاد تھے یعنی کسی دوست نے اپنے