مضامین بشیر (جلد 3) — Page 161
مضامین بشیر جلد سوم 161 مجھے بتایا گیا ہے کہ خدام الاحمد یہ مالی ہفتہ منا رہی ہے۔جس میں چندوں کی تحریک کی جائے گی۔یہ ایک بہت مبارک تحریک ہے۔کیونکہ جہاں تک میں نے سوچا ہے۔جماعتی چندے ایک طرح سے دین کا نصف حصہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے کمال حکمت سے قرآن مجید میں دو حکموں پر خاص زور دیا ہے۔ایک نماز ہے جو حقوق اللہ کے میدان سے تعلق رکھتی ہے اور نفس کے پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔اور دوسرے جماعتی چندے ہیں جن میں زکوۃ ایک اہم رکن ہے۔جس کے لئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مسلمان کہلانے والوں کے ساتھ لڑنا تک ضروری خیال کیا۔دراصل کوئی نظام جماعتی چندوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔اور جو شخص احمدی کہلا کر چندوں کے معاملہ میں سست ہے۔وہ حقیقتاً جماعت کی غرض وغایت اور اہمیت کو سمجھتا ہی نہیں۔کیونکہ وہ جماعت کو اس سامان سے محروم کرنا چاہتا ہے جو جماعت کی ترقی کے لئے از بس ضروری اور لازمی ہے۔پس میں امید کرتا ہوں۔خدام الاحمدیہ کے نوجوان اس مبارک تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر خدمت دین کا اعلیٰ نمونہ قائم کریں گے۔وَ كَانَ اللَّهُ مَعَهُمْ أَجْمَعِيْنَ۔( محرره 2 دسمبر 1953 ء) روزنامه المصلح کراچی 9 دسمبر 1953 ء) یہ غرباء کی امداد کا خاص موسم ہے اہل ثروت اصحاب توجہ فرمائیں یوں تو اسلام نے ہر زمانہ اور ہر موسم میں ہی غرباء کی امداد کو ایک بھاری ثواب کا ذریعہ قرار دیا اور صدقہ و خیرات پر بہت زور دیا ہے۔لیکن بعض موسموں کے متعلق خاص طور پر زیادہ زور دیا گیا ہے کہ ان میں غرباء کی امداد کا خاص خیال رکھا جائے۔چنانچہ رمضان اور عیدین وغیرہ کے موقع پر آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم غرباء کی امداد کے متعلق بہت تاکید فرمایا کرتے تھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان موقعوں پر غرباء کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔اور ظاہر ہے کہ وہی صدقہ زیادہ ثواب کا موجب ہوتا ہے جو زیادہ ضرورت کے وقت دیا جاوے۔ایسا صدقہ چونکہ مصیبت زدہ مساکین کی خاص تکلیف رفع کرنے کا موجب ہوتا ہے اس لئے خدا بھی ایسے موقع پر زیادہ خوش ہوتا اور دینے والوں کو زیادہ ثواب عطا فرما تا ہے۔اس قسم کے موسموں