مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 112 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 112

مضامین بشیر جلد سوم 112 بن جانا ایک ایسا ہی غیر فطری سہارا ہے جیسا کہ جمع شدہ خزانوں پر کسی شخص کا غافل ہو کر بیٹھ جانا، بے شک کسی قدر درجہ کا فرق ضرور ہو گا لیکن ہر عقلمند انسان آسانی کے ساتھ سوچ سکتا ہے کہ دراصل اس جہت سے ان دونوں نظاموں کی نوعیت اور بنیادی نظریہ ایک ہی ہے کہ وہ انسان کو جد و جہد کے میدان سے نکالتے ہیں اور صحیح نظریہ صرف اسلام کا ہے جو ہر فردکو خواہ وہ امیر ہے یا غریب اپنی ضروریات زندگی کے لئے ہر وقت چوکس رکھتا ہے اور اونگھ کر غافل ہونے سے بچاتا ہے۔روحانیت کا کامل فقدان مذہبی رجحان رکھنے والے لوگوں کے لئے خواہ وہ مسلمان ہیں یا عیسائی یا یہودی یا بدھ یا ہندو یا سکھ یا کوئی اور ایک خاص قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ اشتراکیت کا سارا میلان اور سارا ذہنی ماحول مادی ہے اور عملاً بھی اس کا سارا زور مادیت ہی کے رنگ میں خرچ ہو رہا ہے۔اور اشترا کی درسگاہوں میں بھی مذہبی تعلیم بالکل ممنوع ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اشتراکیت کے نظام میں انسان کے روحانی پہلوکو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ اس نظام کے تمام کل پرزے روحانیت کو مٹانے اور مذہبیت کو تباہ و برباد کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اسی لئے خواہ اشتراکیت اپنے منہ سے خدا کے عقیدہ کے خلاف کچھ بولے یا نہ بولے، اس کا عملی اثر نمایاں طور پر دہریت کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔اور اس طرح اشتراکیت نے گویا انسانیت کے نصف بہتر دھڑ کوگویا تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔اور کمیونسٹوں کی نئی نسل عملا ایک دہریہ نسل ہے جس میں کسی خدا پرست کو ڈھونڈنا ایک عبث فعل سے زیادہ نہیں اور اگلی نسلوں کا تو بس خدا ہی حافظ ہے۔روس کا آہنی پردہ اشتراکیت کے نظام کی راز داری بھی اس کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔روس کا آہنی پردہ ایک معروف حقیقت ہے جسے بچہ بچہ جانتا ہے۔اگر اشتراکیت حقیقتاً ایک رحمت اور بنی نوع انسان کے لئے واقعی مفید اور بابرکت چیز ہے تو اس راز داری کے کیا معنے ہیں ؟ روس کے دروازے غیر ملکی مبصروں کے واسطے کیوں بند ہیں؟ اشتراکیت کے پر چارک دوسرے ممالک میں خفیہ نفوذ کا طریق کیوں اختیار کرتے ہیں؟ تاریخ عالم کا مطالعہ اس بات پر ایک زندہ گواہ ہے کہ دنیا میں کوئی صداقت کبھی راز داری کے رنگ میں ظاہر نہیں ہوئی بلکہ ہمیشہ ایک کھلی حقیقت بن کر آتی ہے۔حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم تک اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر موجودہ زمانہ تک جتنے بھی مصلح دنیا کے مختلف ممالک میں آئے ہیں ان