مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 107 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 107

مضامین بشیر جلد سوم 107 طرح سرمایہ داری اور دولت کے ناواجب اجتماع کا رد عمل اشتراکیت کی صورت میں ظاہر ہوا اور روس میں خصوصیت سے سماجی نظام کا پنڈولم (Pendulum) ایک انتہا کی چوٹ کھا کر دوسری انتہا کو جا پہنچا۔انفرادیت اور اجتماعیت کا قدرتی توازن ان دونوں غیر فطری نظاموں کے مقابل پر جن میں سے ایک نظام انفرادیت (Individualism) کو مٹاتا اور دوسرا اجتماعیت (Collectivism) کے جذبہ کو تباہ کرتا ہے۔اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ عام حالات میں ذاتی دولت پیدا کرنے اور اس دولت سے ذاتی فائدہ اٹھانے کے حق کو تو تسلیم کیا جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ایک ایسی مؤثر اور حکیمانہ مشینری لگا دی گئی ہے۔جس کی وجہ سے ملکی دولت کبھی بھی چند ہاتھوں میں جمع نہیں ہو سکتی اور دولت کو سمونے اور غریب و امیر کے فرق کو کم کرنے کا عمل ساتھ ساتھ چلتا ہے۔اس طرح اسلام گویا اشتراکیت اور سرمایہ داری کے بین بین کا نظام ہے۔جس میں کمال حکمت سے ایک طرف تو دونوں نظاموں کی خوبیاں جمع ہیں اور دوسری طرف وہ ان دونوں نظاموں کی خرابیوں سے مبرا اور آزاد ہے۔اور اس کی اپنی خوبیاں مزید برآں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جس اسلامی ملک کے مسلمان اسلام کی تعلیم پر قائم رہے ہیں مگر افسوس کہ یہ نظارہ بہت کم نظر آتا ہے ) وہاں نہ تو سرمایہ داری ہی اپنی بھیانک صورت میں قائم ہو کر اجتماعیت کے جذبہ کو تباہ کر سکی ہے اور نہ ہی اس میں اشتراکیت کو نفوذ کا رستہ مل کر انفرادیت کا جنازہ اٹھا ہے۔حقیقتاً اشتراکیت کے مقابل پر اسلام ایک ایسی آہنی دیوار کا حکم رکھتا ہے جس میں نقب کا لگا نا اشتراکیت کے بس کی بات نہیں۔اسلامی نظام کا مرکزی نقطہ اسلام نے سب سے پہلے دولت پیدا کرنے کے ذرائع کے متعلق یہ اصولی تعلیم دی ہے کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کے سامانوں اور دولت کے قدرتی وسائل کو تمام بنی آدم کے فائدہ کی خاطر پیدا کیا ہے۔اور کسی خاص طبقہ کی اجارہ داری قرار نہیں دیا۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے:۔خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (البقره: 30) یعنی اے وہ لوگو! جو اس دنیا میں بستے ہو۔خدا نے دنیا کی ہر چیز تم سب کے فائدہ کے لئے پیدا کی ہے۔اس واضح آیت سے ثابت ہے کہ اسلامی نظریہ کے ماتحت دولت پیدا کرنے کے ذرائع سب لوگوں کے لئے یکساں کھلے رکھے گئے ہیں اور ان پر کسی خاص طبقہ کی اجارہ داری تسلیم نہیں کی گئی۔لیکن دوسری طرف