مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 77 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 77

مضامین بشیر جلد سوم 77 تا کہ کسی فرد کی کمزوری کی وجہ سے ان پر تکلف اور ریا کا پردہ نہ پڑ سکے البتہ جب دل کے اندرونی جذبات طبعی ابال کی صورت میں ظاہر ہوں۔جیسا کہ بچے کے رونے پر ماں کا دودھ بہہ نکلتا ہے تو پھر ان کے اظہار میں حرج نہیں۔کیونکہ جذبات کا مخلصانہ اور طبعی اظہار دوسروں کے واسطے ہمیشہ نیک تحریک کا باعث بنتا ہے۔اور لوگوں میں اپنے پاک نمونہ سے نیکی پھیلانا بھی اسلام کے اہم اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔اس نوٹ کے شروع میں میں نے حضرت اماں جان کو ایک جہت سے خاندان کا بانی کہا ہے۔اس پر تعجب نہیں کرنا چاہئے۔کیونکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں ایک لحاظ سے خاندان کا بانی قرار دیا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔جیسا کہ لکھا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بغیر سابق تعلقات قرابت اور رشتہ کے دہلی میں ایک شریف اور مشہور خاندان سیادت میں میری شادی ہوگئی۔۔۔سو چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا اس لئے اس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے۔جو اُن نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخم ریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلا دے۔اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا۔اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 273-275) اور دوسری جگہ خدا تعالے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کر کے حضرت اماں جان کے متعلق فرماتا ہے کہ اُشكُرْ نِعْمَتِی رَائِيْتَ خَدِيجَتی یعنی میری اس نعمت کا شکر ادا کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پا لیا ہے۔اس جگہ خدیجہ کے نام میں خاندان کی بنیا در رکھنے والی خاتون کی طرف اشارہ ہے۔جیسا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ، رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی بانی تھیں۔ان حوالوں سے حضرت اماں جان کا بلند اساسی مقام ظاہر وعیاں ہے۔پس دوستوں کو ان ایام میں حضرت اماں جان کے لئے خاص طور پر دعا سے کام لینا چاہئے۔اور دعا بھی ایسی ہونی چاہئے جو تضرع کا رنگ رکھتی ہو۔اور ایک قدرتی ابال کی طرح پھوٹ پھوٹ کر باہر آئے آجکل حضرت اماں جان کی حالت