مضامین بشیر (جلد 3) — Page 73
مضامین بشیر جلد سوم 73 بہر حال میں اس موقع سے فائدہ اٹھا کر دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ دعا میں یہ طریق بالکل درست نہیں ہے کہ خدایا! جو بات تو پسند کرے وہی کر۔اور حقیقتاً ایسی دعا کو دعا کہنا ہی غلط ہے بلکہ دعا وہی ہے جس میں عزم اور امید کے ساتھ خدا تعالیٰ سے ایک معین خیر مانگی جائے اور جس چیز کو انسان اپنے علم کے مطابق بہتر اور بابرکت خیال کرتا ہے اسے عزم و جزم کے ساتھ اپنے خدا سے طلب کرے اور اس کے پورا کرنے کے لئے ظاہری تدابیر بھی اختیار کی جائیں اور اس کے بعد نتیجہ خدا تعالیٰ پر چھوڑا جائے۔یہی دعا کا صحیح نظریہ ہے جس پر ہر زمانہ میں انبیاء اور صلحاء کا عمل رہا ہے۔ہمارے آقا صلے اللہ علیہ وسلم خوب فرماتے ہیں کہ إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمَ الْمَسْتَلَةَ وَلَا يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَاعْطِنِي فَإِنَّهُ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ ( بخاری کتاب الدعوات ليعزم المسئلۃ فانہ لانگر ہلہ ) یعنی جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرنے لگے تو اسے چاہئے کہ اپنے سوال کو معین صورت دے کر اس پر پختگی سے قائم ہو اور ایسے الفاظ استعمال نہ کرے کہ خدایا! اگر تو پسند کرے تو میری اس دعا کو قبول فرمالے۔کیونکہ خدا تو بہر حال اسی صورت میں دعا قبول کرے گا کہ وہ اسے پسند ہو۔کیونکہ خدا سب کا حاکم ہے اور اس پر کسی کا دباؤ نہیں۔یہ ایک نہایت لطیف نفسیاتی نکتہ ہے جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سکھایا ہے۔اس حکیمانہ نکتہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ دعا میں مشروط یا ڈھیلے ڈھالے الفاظ کہہ کر اپنی دعا کے زور اور اپنے دل کی توجہ کو کمزور نہیں کرنا چاہئے۔دراصل دعا کے واسطے انتہائی توجہ اور انہماک اور استغراق کی ضرورت ہوتی ہے۔گویا دعا کرنے والا اپنے کرب اور سوز کی تپش میں اپنی روح کو پگھلا کر خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ڈال دیتا ہے کہ میرے آقا مجھے یہ چیز عطا کر۔لیکن مشروط یا ڈھیلے ڈھالے الفاظ سے کبھی بھی یہ کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی۔اور پھر ایسی دعا خدا کی شان کے بھی خلاف ہے کہ ہم زمین و آسمان کے خالق و مالک اور اپنے رحیم وکریم آقا کے سامنے سوالی بن کر مانگنے کے لئے جائیں اور پھر اگر مگر کے دھوئیں میں اپنی دعا کو غائب کر کے ختم کر دیں۔بے شک بعض استثنائی حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروط دعا کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص اپنے بڑھاپے یا بیماری یا مصائب سے تنگ آکر اپنی زندگی کو