مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 72 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 72

مضامین بشیر جلد سوم 72 حضرت اماں جان کا وجود جماعت کے لئے اور خاندان کے لئے بہت ہی مبارک ہے کیونکہ ان کی زندگی کے ساتھ کئی برکت کے سائے وابستہ ہیں۔( محررہ 27 مارچ 1952 ء ) ( روزنامه الفضل لا ہور 28 مارچ 1952ء) 9 اپنی دعاؤں میں عزم اور امید کی کیفیت پیدا کرو حضرت اماں جان کیلئے خاص دعا کی تحریک آج ایک دوست جو صحابی بھی ہیں اور چند دن سے ربوہ میں تشریف لائے ہوئے ہیں مجھے ملے اور حضرت اماں جان کی خیریت دریافت کی۔میں نے عرض کیا کہ رات بخار بھی تیز ہو گیا تھا اور کمزوری بھی بہت زیادہ ہوگئی ہے اور کبھی کبھی کچھ غفلت کی حالت بھی ہو جاتی ہے۔بہت دعا کرنی چاہئے۔فرمانے لگے میں تو یہ دعا کرتا ہوں کہ خدایا اگر تیرے علم میں حضرت اماں جان کی زندگی بہتر ہے تو انہیں شفا عطا فرما اور جو بات تیرے علم میں بہتر ہے وہی ہو۔اس پر میں نے کسی قدر تلخی سے کہا کہ جب آپ کے لڑکے نے گزشتہ سال فلاں امتحان دیا تھا ( گزشتہ سال ان کے ایک بچے نے ایک اعلیٰ امتحان میں شرکت کی تھی اور خدا کے فضل سے پاس بھی ہو گیا تھا ) تو کیا آپ نے اس کے لئے یہی دعا کی تھی اور ہم سے بھی اسی دعا کی توقع رکھتے تھے کہ خدایا! اگر اس کا پاس ہونا بہتر ہو تو اسے کامیاب فرما ورنہ جو تیری مرضی ہو۔اس پر یہ دوست شرمندہ ہو کر اور گھبرا کر فرمانے لگے کہ نہیں ایسا تو نہیں۔میں نے کہا تو کیا پھر حضرت اماں جان کی زندگی کا سوال ہی ایسا ہے کہ آپ اس کے لئے خود اپنی طرف سے کوئی کلمہ خیر زبان پر نہ لا سکیں اور ایک طرف تو خدا کے سامنے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا ئیں اور دوسری طرف اس سے یہ عرض کریں کہ خدایا! جوتو چاہتا ہے وہی کر۔یہ تو کوئی دعا نہ ہوئی بلکہ گویا تو کل کا عامیانہ پہلو ہو گیا اور پھر اس نظریہ کے ماتحت تو علاج وغیرہ کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔کیونکہ بہر حال جو خدا چاہے گا وہی ہوگا۔خیر یہ دوست بہت شرمندہ ہوئے اور اپنے غلط خیال سے تو بہ کی اور فرمانے لگے کہ یونہی بے سوچے سمجھے جلدی سے میرے منہ سے ایک بات نکل گئی تھی ورنہ میں تو حضرت اماں جان کی بابرکت زندگی کے لمبا ہونے کے لئے بہت دعا کرتا ہوں۔