مضامین بشیر (جلد 3) — Page 67
مضامین بشیر جلد سوم جَزَاكُمُ اللهُ خَيْراً محرره 21 فروری 1952ء) 67 روزنامه الفضل لاہور 26 فروری 1952ء) حضرت مسیح موعود کے بعد پہلی بیعت خلافت کہاں ہوئی ؟ (1) کچھ عرصہ ہوا تھا۔یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد پہلی بیعت خلافت کہاں ہوئی تھی۔حضور کی نماز جنازہ سے متعلق تو سب دوستوں کو اتفاق تھا اور ہے کہ وہ اخویم محترم مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم والے باغ میں ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے باغ کے ساتھ جانب شمال متصل طور پر واقع ہے ) ہوئی تھی۔لیکن حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر پہلی بیعت کی جگہ کے متعلق دوستوں میں اختلاف تھا اور اب بھی ہے۔اور بدقسمتی سے اس معاملہ میں اخبار الحکم اور اخبار بدر میں بھی کوئی اندراج نہیں مل سکا۔بلکہ صرف اس قدر را ندارج ملا ہے کہ بیعت باغ میں ہوئی مگر یہ کہ یہ باغ کونسا باغ تھا ( شہر کی طرف والا باغ مملوکہ مرزا سلطان احمد صاحب یا که بہشتی مقبرہ کی جانب والا باغ مملوکہ حضرت مسیح موعود ) اس کے متعلق دونوں اخبار خاموش ہیں۔ان حالات میں میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کی ہدایت کے ماتحت الفضل میں اعلان کرا کے دوستوں کی شہادت طلب کی تھی۔لیکن افسوس ہے کہ اس اعلان کے نتیجہ میں بھی کوئی ایسی روشنی حاصل نہیں ہو سکی جو کسی قطعی نتیجہ پر پہنچانے والی ہو اور روایتوں کا اختلاف بدستور قائم رہا۔جس سے ہمیں ضمنا یہ فائدہ ضرور حاصل ہوا کہ روایتی علم بہر صورت ایک ظمی علم ہے۔جس پر بصورت اختلاف کسی قطعی فیصلہ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔اخباری اعلان اور اس سے قبل دوستوں کے خطوط کے نتیجہ میں جو شہادتیں پہنچی ہیں ان کا خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔وہ اصحاب جن کی رائے میں پہلی بیعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام والے باغ میں ہوئی (1) محترمی مفتی محمد صادق صاحب ربوہ ( مگر پوری طرح یاد نہیں ) (1) حاشیہ یہ 1953ء کا مضمون ہے۔مناسبت سے مضمون اکٹھے کر دیئے گئے ہیں۔(مرتب)