مضامین بشیر (جلد 3) — Page 730
مضامین بشیر جلد سوم 730 جاتی ہے۔فیملی پلینگ (Family planning) مصنفہ ڈاکٹر ستیاوتی کے صفحات 70 و77 و80 کے متفرق نوٹوں میں۔نیز پاکستان ٹائمنز مورخہ 21 ستمبر 1959 ، صفحہ 4) پھر انسائیکلو پیڈیا برٹینی کا میں برتھ کنٹرول والے نوٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ: اولاد محض خواہش کے نتیجہ میں نہیں مل جایا کرتی ( بلکہ اس کے لئے نیچر کے بھی بعض قوانین اور حد بندیاں مقرر ہیں ) کئی خاوند بیوی ایسے دیکھے گئے ہیں جنہوں نے اپنی متاہل زندگی کے شروع میں برتھ کنٹرول پر عمل کیا مگر پھر بعد میں اولاد کی خواہش اور کوشش کے باوجود آخر عمر تک بے اولا در ہے اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔(انسائیکلو پیڈیا برٹینی کا ایڈیشن 14 جلد 3 زیر آرٹیکل برتھ کنٹرول) (34) عورتوں میں برتھ کنٹرول کی خواہش زیادہ تر اپنے حسن و جمال کو برقرار رکھنے اور اسے ترقی دینے کے خیال سے ہوا کرتی ہے۔اور یا اس کی تہہ میں بے فکری اور آزادی کی زندگی گزارنے کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔اسی لئے برتھ کنٹرول پر عمل اور اس کا چرچا زیادہ تر متمول طبقہ میں پایا جاتا ہے مگر آڑ غرباء کے طبقہ کی لی جاتی ہے۔لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر ایک طرف پاکستانی عورتوں کو برتھ کنٹرول کے امکانی نقصانات کا احساس پیدا کرایا جائے اور دوسری طرف گھر یلو زندگی کی اہم ذمہ داریوں کا جذ بہ اجاگر کیا جائے تو پاکستان کی باشعور خواتین سے بعید نہیں کہ وہ چوکس ہو کر اپنے خیالات میں کسی قدر تبدیلی کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گی۔صحت بے شک ایک ضروری چیز ہے اور اگر زندگی کو خطرہ ہو تو برتھ کنٹرول تو کیا ڈاکٹری ہدایت کے ما تحت حمل بھی گرایا جا سکتا ہے۔لیکن یونہی ظاہری اور عارضی ٹیپ ٹاپ کے خیال کی بناء پر مسلمان عورتوں کے لئے اپنی نسل کو ضائع کرنا ہرگز دانشمندی کا طریق نہیں۔کون کہہ سکتا ہے کہ جو بچہ برتھ کنٹرول کے ذریعہ ضائع کیا جا رہا ہے وہ کس شان کا نکلنے والا ہے؟ یا اگر خدانخواستہ موجودہ اولا دفوت ہو جائے تو کون جانتا ہے کہ اس کے بعد اولاد کا سلسلہ بند ہو جانے کے نتیجہ میں کتنی حسرت کا سامنا کرنا پڑے گا۔(35) پھر ملکوں اور قوموں کے حالات میں اتار چڑھاؤ بھی ہوتا رہتا ہے۔آج اگر کسی وجہ سے کسی ملک میں آبادی کی کثرت محسوس کی جارہی ہے تو کل کو ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں کہ اسی ملک میں زیادہ آبادی کی ضرورت محسوس ہونے لگے اور آبادی کی کمی وبال جان بن جائے۔جرمنی میں برتھ کنٹرول کے ذریعہ آبادی کو گرایا گیا۔مگر بہت جلد ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ نازی حکومت کو آبادی بڑھانے کی غرض سے جرمن نو جوانوں کو شادیوں کی تحریک کرنے کے لئے انعام دینے پڑے اور زیادہ بچے پیدا کرنے کی غرض سے