مضامین بشیر (جلد 3) — Page 724
مضامین بشیر جلد سوم 724 اس نقشہ سے ظاہر ہے کہ کم از کم مغربی پاکستان اور خصوصاً سندھ میں رقبہ کے مقابل پر آبادی کا تناسب ابھی تک بہت کم ہے اور کافی توسیع کی گنجائش ہے۔بے شک مشرقی پاکستان میں آبادی کا تناسب مغربی پاکستان کی نسبت بہت زیادہ ہے۔مگر یہ مسئلہ مشرقی پاکستان کی اکانومی کو چھوٹے رقبوں سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے طریقہ کاشت کو جسے انگریزی میں انکیو فارمنگ (Intensive farming) کہتے ہیں۔اختیار کرنے سے حل کیا جا سکتا ہے۔مشرقی پنجاب کے بعض علاقوں میں آرائیں قوم کے لوگ نصف ایکڑ رقبہ میں کافی بڑے بڑے خاندانوں کو پالتے تھے۔اسی طرح مشرقی پاکستان کی اکانومی کو صنعت و حرفت کی طرف تھوڑا سا جھکانے سے بھی کسی قدر سہولت پیدا کی جاسکتی ہے۔میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مشرقی پاکستان میں زرعی اکانومی کو صنعتی اکانومی میں بدل دیا جائے۔ایسا کرنا بہت پیچیدگی کا موجب ہوگا۔بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ اس حصہ ملک کی اکانومی کو مناسب حد تک صنعت و حرفت کی طرف جھکا کر آبادی میں بہتر توازن کی صورت پیدا کی جاسکتی ہے۔پھر یہ بات بھی یا در کھنے کے قابل ہے کہ مشرقی پاکستان میں آبادی کی زیادتی کے باوجود سارے پاکستان میں آبادی کا مخلوط اور مجموعی تناسب صرف 194 ہے (ایس عنایت حسین مذکور صفحہ 54) جو کئی دوسرے ملکوں کے مقابل پر کافی کم ہے اور کم از کم فی الحال تشویش کی کوئی وجہ نہیں۔(25) اگر کسی وقت پاکستان میں جگہ کی کمی کا سوال پیدا ہو تو اس کا ایک جزوی قسم کا حل یہ بھی ہے کہ پاکستان کے بعض لوگ انفرادی طور پر پاکستان سے منتقل ہو کر ایسے دوسرے ملکوں میں چلے جائیں جہاں زائد لوگوں کی کھپت کی گنجائش ہو۔یہ لوگ جہاں بھی جائیں گے لازماً ان کے دلوں میں پاکستان کی محبت اور ہمدردی جاگزین رہے گی۔اس قسم کی انفرادی ہجرت میں نہ صرف پڑھے لکھے تاجر اور صناع اور پیشہ ور اور کلرک ٹائپ کے لوگ حصہ لے سکتے ہیں۔بلکہ مزدور طبقہ کے لئے بھی اس کی کافی گنجائش موجود ہے۔یہودی قوم نے اس تدبیر سے بہت فائدہ اٹھایا ہے اور اکثر ملکوں میں اپنا ایک مخصوص مقام پیدا کر لیا ہے۔یقیناً اپنے ہاتھ سے اپنی نسل کے ایک حصہ کو برتھ کنٹرول کے ذریعہ ضائع کرنے سے یہ بات بہت بہتر ہے کہ پاکستان کی زائد آبادی (اگر اور جب بھی اس کا وجود پیدا ہو ) فرداً فرداً اور آہستہ آہستہ بعض دوسرے ممالک میں پہنچ کر آباد ہو جائے۔یقینا وہ باہر جا کر اسلامی تعلیم کے ماتحت ان ملکوں کی حکومتوں کی وفادار رہے گی۔مگر ساتھ ساتھ ان ملکوں میں پاکستان سے ہمدردی رکھنے والا ایک طبقہ بھی پیدا ہو جائے گا۔قرآن مجید نے بھی اسی حل کی طرف ایک آیت میں ضمنی طور پر اشارہ فرمایا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے: