مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 722 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 722

مضامین بشیر جلد سوم 722 عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمَصْطَلَق فَاَصَبُنَا سَبُياً مِّنَ الْعَرَب فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعَزُبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ فَسَأَلْنَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَّا تَفْعَلُوْافَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ قَدْ كَتَبَ مَا هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - ( بخاری و مسلم ) یعنی حضرت ابوسعید روایت کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنی مصطلق کے سفر میں نکلے اور بعض غلام عورتیں ہمارے ہاتھ آئیں اور ہمیں اپنے گھروں سے دوری کی وجہ سے عورتوں کی طرف طبعا رغبت پیدا ہوئی مگر ہم یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ ہماری ان لونڈیوں کو حمل قرار پائے تو ہم نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا آپ نے فرمایا کہ تمہیں ان حالات میں حکم نہیں دیتا کہ ضرور عزل سے رکو مگر جس بچہ کا پیدا ہونا مقدر ہو وہ تو پیدا ہو ہی جاتا ہے۔(ب) اور دوسری حدیث میں آتا ہے کہ: عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي جَارِيَةً هِيَ خَادِمَتْنَا وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا وَ أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَقَالَ اعْزَلُ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَاتِهَا مَا قَدِرَلَهَا۔(ابوداؤد و مسند احمد کتاب النکاح باب ماجاء فی العزل) یعنی حضرت جابز روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میری ایک لونڈی ہے جو ہماری خدمت کرتی ہے اور میں اس سے مباشرت کا تعلق رکھتا ہوں مگر میں پسند نہیں کرتا کہ اس سے بچہ پیدا ہو۔آپ نے فرمایا کہ اگر تم ضروری خیال کرتے ہو تو اس سے عزل کر سکتے ہومگر مقدر بچہ تو پیدا ہو کر ہی رہتا ہے۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر اقوال جو عزل کے بارے میں ہیں وہ انہی تین حد بندیوں کے گرد چکر لگاتے ہیں۔یعنی یا تو وہ سفر کی حالت سے تعلق رکھتے ہیں اور یا وہ لونڈیوں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور یا وہ مرد و عورت کی زندگی کی حفاظت اور ان کی امکانی بیماری کے سد باب سے متعلق ہیں۔نوٹ اول : اس تعلق میں ہماری جماعت کو یاد ہوگا کہ ایک دفعہ جماعت کے موجودہ امام حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کے بیرونی مبلغوں کو نصیحت کی تھی کہ ( چونکہ وہ بھی سفر کی