مضامین بشیر (جلد 3) — Page 709
مضامین بشیر جلد سوم 709 سیاسی مرکز قرار پایا ہے۔اور مرکز کی ذمہ واری عام شہروں کی نسبت بہت زیادہ ہوا کرتی ہے۔پس راولپنڈی کے دوستوں کو چاہئے کہ اپنی اس نئی ذمہ داری کے پیش نظر بھی اپنا جائزہ لیں۔اور اسے اپنے سامنے رکھ کر آئندہ پروگرام مرتب کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسانی جسم میں گوشت کا ایک چھوٹا سا ٹکر ا یعنی دل ہے جو نظام حیات کا مرکز ہے۔اگر وہ درست ہو تو سارا جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ بگڑے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔پس چونکہ اب راولپنڈی پاکستان کا سیاسی دل ہو گا اس لئے پنڈی کی جماعت احمدیہ کو بھی اپنی نئی ذمہ داری کو پہچانتے ہوئے زیادہ چوکس اور زیادہ چست اور زیادہ بیدار مغز اور زیادہ فرض شناس ہو جانا چاہئے۔اور دنیا پر ثابت کر دینا چاہئے کہ جس طرح پنڈی ملک کا مرکز ہے اسی طرح ہم بھی ملک بھر کی جماعتوں کے لئے ایک مثالی جماعت ہیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ احمدی نوجوانانِ راولپنڈی کو اپنی رضا کے ماتحت بہترین خدمت کی توفیق دے اور دوسرے شہروں کی جماعتوں کے لئے ایک بہت اچھا نمونہ بنائے۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ( محرره 19 ستمبر 1959ء) روزنامه الفضل ربوہ 16 اکتوبر 1959ء) ایک غیر احمدی افسر کی طرف سے دعا کی تحریک آج کی ڈاک میں مجھے ایک احمدی پٹواری کا خط ملا ہے جس میں انہوں نے اپنے ایک شریف غیر احمدی افسر کی طرف سے لکھا ہے کہ تمہاری جماعت کے ایک ممتاز رکن چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ابھی تک نرینہ اولاد سے محروم ہیں جماعت ان کے لئے دعا کیوں نہیں کرتی اور اس کی تحریک کیوں نہیں کی جاتی۔ہم اس غیر از جماعت افسر کی شرافت کے ممنون ہیں کہ انہوں نے اس امر کی طرف خاص توجہ دلائی۔مگر ان کی خدمت میں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ محترم چوہدری صاحب کی اولاد اور ساتھ ہی عزیزم مظفر احمد صاحب سلمہ کی اولاد کے لئے بھی کئی دفعہ الفضل میں تحریک ہو چکی ہے اور احباب جماعت کے خطوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر دو کے متعلق اسی درد کے ساتھ دعائیں کر رہے ہیں۔مگر دعاؤں کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے صبر و استقلال کو آزماتا ہے اس لئے دوستوں کو اس معاملہ میں گھبرانا یا مایوس ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ہمارے خدا کی قدرت بہت وسیع ہے اور اس کی رحمت کی بھی کوئی انتہا نہیں۔دوست