مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 705 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 705

مضامین بشیر جلد سوم صاف ہو۔705 ایک دفعہ فرمایا کہ میرے صحابہ کے باہمی علمی اختلاف کی وجہ سے پریشان نہ ہوا کرو۔وہ سب آسمان کے ستارے ہیں تم جس ستارے کو بھی سامنے رکھ کر راستہ تلاش کرنا چاہو تمہیں راستہ مل جائے گا۔دشمنوں کے ساتھ سلوک کا یہ عالم تھا کہ باوجود اس کے کہ مکہ والوں نے پورے اکیس سال تک آپ کے خلاف ایڑھی چوٹی کا زور لگایا تھا۔آپ کے قتل کی سازشیں کی تھیں۔آپ کے مال و متاع کولوٹا۔آپ کے سینکڑوں صحابیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا اور بعض کو دھوکے سے اپنے پاس بلا کر تہہ و تیغ کیا۔آپ کے عزیزوں ، رشتہ داروں بلکہ خاندانِ نبوت کی خواتین کی بے عزتی سے بھی دریغ نہیں کیا۔حتی کہ ایک موقع پر بد باطن دشمن کے حملہ کی وجہ سے آپ کی صاحبزادی حضرت زینب کا ایک حمل بھی ضائع ہو گیا اور وہ بالآخر اسی کمزوری کے نتیجہ میں فوت ہوئیں۔اور پھر اسی پر بس نہیں بلکہ مکہ والوں نے آپ کے خلاف عرب کی آس پاس کی حکومتوں کو بھی اکسایا تا کہ اس نوزائیدہ پودے کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔لیکن جب ایسے جانی اور خونی اور سازشی دشمنوں پر خدا نے آپ کو غلبہ عطا کیا اور مکہ فتح ہوا تو آپ نے انہیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا کہ اِذْهَبُوا أَنْتُمُ الطَّلَقَاءُ جاؤ میں تمہیں چھوڑتا اور معاف کرتا ہوں۔عین جنگ کی حالت میں بھی دشمن پر رحم کا جذ بہ غالب تھا۔چنانچہ آپ اپنی لڑائیوں میں یہ ہدایت فرمایا کرتے تھے کہ اپنے سامنے کے جنگجو دشمن کے منہ پر تلوار کا وار نہ کیا کرو بلکہ ایسی طرح مارو کہ یا تو وہ مر جائے۔اور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے اور یا اگر وہ بچے تو اس کے لئے اس کی زندگی اجیرن نہ ہو جائے۔اور فرماتے تھے کہ ضرب لگانے میں بھی مومن کو رحم دل ہونا چاہئے۔دعوی نبوت کے بعد آپ کا ابتدائی زمانہ بہت تنگی اور عسرت میں گزرا۔حتی کہ بعض اوقات بھوک کی وجہ سے آپ پیٹ پر پتھر باندھ کر گزارا کرتے تھے۔جب اس کے بعد فراخی کا زمانہ آیا اور قیصر و کسری کی دولتیں مدینہ میں سمٹ سمٹ کر آنے لگیں اور خورد و نوش کے بہتر سامان میسر آگئے تو بعض اوقات حضرت عائشہ میدے کی نرم نرم روٹیاں کھاتے ہوئے آنسو بہاتی تھیں اور ساتھ ساتھ کہتی جاتی تھیں کہ یہ روٹیاں میرے گلے میں پھنستی ہیں کیونکہ خدا کی قسم! یہ نرم روٹیاں تو در کنار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی میں جو کی کھردری روٹی بھی دو دن تک اوپر تلے میسر نہیں آئی۔پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں کسی قدر فراخی میسر آگئی تھی اور آپ سارے عرب کے سردار بن چکے تھے مگر بایں ہمہ اپنے لئے آپ نے