مضامین بشیر (جلد 3) — Page 702
مضامین بشیر جلد سوم 702 ساتھ فرمایا۔یہ دو بچے میری جنت کے دو پھول ہیں۔ان دو صاحبزادوں کی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کو اپنی تمام اولاد میں زیادہ عزیز تھیں۔ایک دفعہ شادی کے بعد انہوں نے حضرت علی کی تحریک پر آپ سے عرض کیا کہ کام کرتے کرتے میرے ہاتھوں میں اینٹھن پڑ جاتے ہیں۔آپ ہمیں کوئی خادمہ یا خادم دیں۔آپ کے دل کو طبعا رنج پہنچا مگر محبت کے ساتھ فرمایا بیٹی ! اس وقت اسلام غربت اور تنگی کی حالت میں ہے اور سب مسلمانوں کا یہی حال ہے اس لئے صبر کرو۔اور ایک دعابتا کر فرمایا یہ دعا پڑھا کرو۔خدا اپنے فضل سے کوئی رستہ کھول دے گا۔مرض الموت میں بڑی شفقت کے ساتھ فرمایا۔فاطمہ ! تم میری وفات کے بعد مجھے سب سے پہلے ملو گی۔وفا شعار بیٹی کو اپنی موت کا غم بھول گیا اور باپ کی ملاقات کی وجہ سے چہرہ پھول کی طرح شگفتہ ہو گیا۔ایک دفعہ آپ کی دوسری بیٹی زینب کا بچہ بیمار ہو گیا ( میں یہ سب باتیں زبانی یاد سے لکھ رہا ہوں اس وقت حوالے چیک کرنے کا موقع نہیں) انہوں نے اس کی وفات کا وقت قریب سمجھ کر گھبراہٹ کے عالم میں اپنے با صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا کہ آپ میرے پاس تشریف لائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا۔زینب سے کہو تمہارا بچہ خدا کی امانت ہے اگر خدا اس امانت کو واپس لے رہا ہے تو گھبراؤ نہیں بلکہ صبر وشکر کے ساتھ اس امانت کو واپس کرو۔مگر حضرت زینب کی مامتا بے قرار تھی۔پھر دوبارہ خدا کا واسطہ دے کر کہلا بھیجا کہ آپ ضرور تشریف لائیں۔جس پر آپ ان کے گھر تشریف لے گئے اور دم توڑتے ہوئے بچے کو اپنی گود میں لے کر کھڑے ہو گئے اور وفور غم سے آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی تار بہہ نکلی۔نبوت کے زمانہ میں غالباً آپ کو صرف ایک نرینہ بچے کا منہ دیکھناملا اور وہ صاحبزادہ ابراہیم تھے جو حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے تھے۔جب وہ فوت ہوئے تو آپ کو طبعاً بہت صدمہ ہوا۔مگر سوائے اس کے کوئی الفاظ زبان پر نہیں آئے کہ: الْعَيْنُ تَدْمَعُ وَالْقَلْبُ يَحْزَنُ وَلَا تَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبَّنَا وَإِنَّا بِفَرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْرُونُونَ۔( صحیح بخاری کتاب الجنائز باب قول النبی آنا یک لحر ونون) یعنی آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غم محسوس کرتا ہے مگر ہم کوئی ایسا کلمہ زبان پر نہیں لاتے جو خدا کی رضا کے خلاف ہو۔کیونکہ یہ بچہ اس کی امانت تھی اور وہی واپس لے گیا ہے۔مگر اے ابراہیم ! ہم یقینا تیری جدائی کی وجہ سے بہت غمزدہ ہیں۔بیویوں کے ساتھ آپ کا سلوک حقیقتا بالکل مثالی تھا۔چنانچہ خود فرمایا کرتے تھے کہ : خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِاهْلِي