مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 50 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 50

مضامین بشیر جلد سوم 50 تھا۔ان ضمنی باتوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ کیا خلافت کا نظام دائمی ہے یا کہ عارضی اور وقتی ؟ اس ضمنی سوال کے جواب میں میں نے اختصار کے ساتھ یہ لکھا تھا ( کیونکہ ایسی ضمنی باتوں کا جواب اختصار کے ساتھ ہی دیا جاسکتا ہے ) کہ گو خلافت کا نظام دائمی ہے لیکن خلافت کا جو دور کسی نبی کی بعثت کے بعد آتا ہے وہ دائمی نہیں ہوتا بلکہ عارضی ہوتا ہے۔اور اس کے بعد ملوکیت یعنی بادشاہت کا دور شروع ہو جاتا ہے۔میرے اس نوٹ پر ڈاکٹر غلام مصطفے صاحب نے مجھے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آیت استخلاف کی تفسیر میں کئی جگہ لکھا ہے کہ خلافت کو وقتی اور عارضی قرار دینا درست نہیں بلکہ خلافت دائمی ہے۔اور جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت قائم ہے۔(اور ظاہر ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے ہے ) اس وقت تک آپ کی خلافت کا دور بھی قائم رہے گا۔اور اللہ تعالیٰ آپ کی امت میں سے حسب ضرورت ہمیشہ روحانی خلفاء بناتا چلا جائے گا۔میں ڈاکٹر صاحب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس زریں ارشاد کی طرف توجہ دلائی۔لیکن اگر غور کیا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد اور میرے اس بیان میں حقیقتاً کوئی اختلاف نہیں۔کیونکہ میں نے جس خلافت کو وقتی اور عارضی قرار دیا تھا۔اس سے صرف وہ خلافت مراد تھی۔جو نبی کے کام کی تعمیل کے لئے اس کے بعد متصل طور پر آتی ہے۔لیکن اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس خلافت کو دائمی قرار دیا ہے۔اس سے وہ روحانی اور تجدیدی خلافت مراد ہے جو کسی نبی کے بعد اس کے لائے ہوئے دین کو زندہ رکھنے اور بعد کی غلط آمیزشوں کو دور کرنے کے لئے روحانی مصلحوں کی صورت میں وقتا فوقتا قائم کی جاتی ہے۔جیسا کہ اسلام میں ہر صدی کے سر پر مجددوں کی بعثت سے ظاہر ہے اور ان معنوں میں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ایک خلیفہ تھے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک طرف تو یہ فرمایا ہے کہ میرے بعد خلافت صرف تمہیں سال تک رہے گی اور اس کے بعد ملوکیت آجائے گی۔اور دوسری طرف آپ نے یہ پیشگوئی فرمائی ہے کہ خدا تعالیٰ اسلام کی تجدید کے لئے میری امت میں ہر صدی کے سر پر مجد دیعنی روحانی خلفاء مبعوث کرتا رہے گا۔پس حقیقتا یہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ درست اور صحیح ہیں۔اور ان میں ہرگز کوئی تضاد نہیں۔یعنی یہ بھی درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلافت راشدہ صرف تمہیں سال تک رہی اور اس کے بعد ملوکیت آگئی۔اور دوسری طرف یہ بھی درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روحانی خلافت کا سلسلہ دائمی ہے اور جب تک اسلام قائم ہے اسلام کی روحانی خلافت بھی قائم رہے گی۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں