مضامین بشیر (جلد 3) — Page 682
مضامین بشیر جلد سوم پھر فرماتے ہیں : میں شہروں کو گرتے دیکھتا اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں“ 682 ( تذکرہ صفحہ 663 حاشیہ) پھر مخلوق خدا کی ہمدردی کے جذبہ سے مغلوب ہو کر کس دردناک انداز میں فرماتے ہیں کہ: آنکھ کے پانی سے یارو کچھ کرو اس کا علاج آسماں اے غافلو اب آگ برسانے کو ہے (چشمه مسیحی) مگران اعلانات اور ان خدائی مکاشفات کے ساتھ ہی آپ نے یہ بھی بار بار صراحت فرمائی کہ اس قسم کے عمومی عذاب صرف لوگوں کی عام بداخلاقی اور بد کرداری اور بددیانتی اور بے حیائی اور فریب دہی اور ظلم و ستم اور قتل و غارت اور لین دین میں دھوکہ اور جھوٹ اور اکل بالباطل اور اغوا اور زنا اور چوری اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے نتیجہ میں آتے ہیں۔جن سے بچنے کے لئے کسی تبدیلی مذہب کی ضرورت نہیں بلکہ صرف عام اخلاقی اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں: میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ یہ شدید آفت جس کو خدا تعالیٰ نے زلزلہ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے صرف اختلاف مذہب پر کوئی اثر نہیں رکھتی اور نہ ہند ویا عیسائی ہونے کی وجہ سے کسی پر ( اس قسم کا عمومی ) عذاب آسکتا ہے۔اور نہ اس وجہ سے آسکتا ہے کہ کوئی میری بیعت میں داخل نہیں۔یہ سب لوگ اس تشویش سے محفوظ ہیں۔ہاں جو شخص خواہ کسی مذہب کا پابند ہو جرائم پیشہ ہونا اپنی عادت رکھے اور فسق و فجور میں غرق ہے اور زانی، خونی، چور ، ظالم اور ناحق کے طور پر بداندیش، بد زبان اور بد چلن ہو اس کو اس سے ڈرنا چاہئے۔اور اگر تو بہ کرے تو اس کو بھی کچھ غم نہیں اور مخلوق کے نیک کردار اور نیک چلن ہونے سے یہ عذاب ٹل سکتا ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 151 حاشیہ) دراصل خدائی عذاب کا قانون ایک بڑے گہرے فلسفہ اور بار یک حکمت پر مبنی ہے جسے سمجھنا ہر شخص کا کام نہیں۔موٹے طور پر یہ جاننا کافی ہے کہ خدائی عذاب چار اقسام میں منقسم ہے: (اول) وہ عذاب جو صرف دنیا میں آتا ہے اور آخرت میں نہیں آتا۔اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص زنا یا چوری وغیرہ کا جرم کرے اور اسے اسی دنیا میں اس جرم کی سزامل جائے اور پھر وہ توبہ کرلے اور آخرت کے عذاب سے بچ جائے۔جیسا کہ حدیث میں ایک شخص کے ذکر میں آتا ہے کہ اس نے ان کا اعتراف کیا اور اس پر اسے سزا ملی۔مگر اس کی غیر معمولی سچی توبہ کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کی