مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 675 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 675

مضامین بشیر جلد سوم 675 کے متعلقہ افسروں کی طرف بر وقت رجوع کرنا چاہیئے اور پھل دار درختوں کے پودے اپنے قریب کے علاقہ کی نرسریوں سے مل سکتے ہیں۔یہ کام اتنا مفید اور نفع مند ہے کہ اسے کچھ خرچ کر کے سرانجام دینا بھی انشاء اللہ بابرکت اور فائدہ مند ہوگا اور حکومت کے ساتھ تعاون مزید برآں ہے۔درختوں کے نصب کرنے کے تعلق میں یہ بات خاص طور پر یا درکھنے اور نگرانی کرنے کے قابل ہے کہ درختوں کا لگانا آسان ہے مگر ان کا سنبھالنا بہت توجہ اور محنت اور نگرانی چاہتا ہے۔بلکہ پھل دار درختوں کی صورت میں تو یہ نگرانی در حقیقت ایسی ہے جیسے ایک شیر خوار بچہ کی کی جاتی ہے۔جسے ماں باپ کی ذراسی غفلت موت کی آغوش میں پہنچا دیتی ہے۔پس جو دوست درخت لگائیں وہ اس بات کی پہلے سے تیاری کر لیں کہ درخت نصب کرنے کے بعد ان کو ان درختوں کی مسلسل دیکھ بھال رکھنی ہوگی اور پانی اور گو سے ( یعنی گوڑائی ) اور کھاد کے ذریعہ انہیں صحت مند اور زندہ رکھنا ہو گا۔ورنہ کم از کم پھل دار درختوں کی صورت میں ساری محنت بر باد جائے گی۔اور مومنوں کو قرآنی محاورہ کے مطابق نقض غزل سے بچنا چاہئے۔ربوہ کے دوستوں کی خدمت میں میری خصوصیت سے اپیل ہے کہ ان کا فرض ہے کہ ربوہ میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور پھر ان کی پوری پوری دیکھ بھال رکھیں۔ربوہ میں گرمی اور گردے کی شدت شجر کاری کی خاص متقاضی ہے۔اس سے انشاء اللہ ربوہ کی آب و ہوا جواب بہت سے لوگوں کے لئے گویا ایک گونہ امتحان بن رہی ہے ترقی کرے گی اور صحتوں پر انشاء اللہ بہت اچھا اثر پڑے گا۔پس ربوہ کے دوست اور خصوصا مالکان اراضی اور مالکان مکانات کو درختوں کے نصب کرنے کی طرف خاص بلکہ خاص الخاص توجہ دینی چاہئے۔ان کے لئے تو میرے خیال میں یہ ایک قسم کا مقدس فریضہ ہے کہ الہی جماعت کے مرکز کو خوبصورت اور خوشنما اور صحت مند بنانے اور اسے گردوگرما سے نجات دلانے میں حصہ لیں۔بے شک ربوہ کے اکثر حصہ میں شور یعنی کلر پایا جاتا ہے مگر کوشش اور توجہ سے کلر زمینوں میں بھی کئی قسم کے درخت پیدا ہو جاتے ہیں۔بلکہ بعض پودے تو خصوصیت سے کلر والی زمین میں ترقی کرتے ہیں۔احباب جماعت ضرور اس کارخیر میں حصہ لیں۔وَجَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْراً۔(محررہ 8 اگست 1959 ء) (روز نامه الفضل ربوه 12 اگست 1959 ء )