مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 674 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 674

مضامین بشیر جلد سوم 674 دوستوں کو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔درختوں کا لگانا کئی لحاظ سے مفید ہوتا ہے۔اول اس سے زائد آمد کا ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔یعنی پھل دار درخت سے پھل کی آمد ہوتی ہے اور گھر والوں کی خوراک میں بھی ایک مفید اور صحت بخش اضافہ ہوتا رہتا ہے۔دوم غیر پھل دار درختوں سے کارآمد لکڑی پیدا ہوتی اور آمدن بڑھتی ہے۔سوم مکانوں اور چاہات اور دیہات اور شہروں اور رستوں میں ٹھنڈا سایہ مہیا ہو کر علاقہ کی گرمی کو کم کرتا اور آب و ہوا پر نیز لوگوں کی صحت پر اچھا اثر ڈالتا ہے وغیرہ وغیرہ۔پس میں تمام احمدی زمینداروں اور دیگر مالکان اراضی سے پُر زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ شجر کاری کی تحریک میں پورے زور شور سے حصہ لیں اور جہاں تک ممکن ہو اپنے مکانوں اور چاہات اور افتادہ جگہوں میں علاقہ کے مناسب حال درخت لگا کر اپنی آمدنوں اور اپنے گھر والوں کی صحت اور ملک کی ترقی کا راستہ کھولیں۔جہاں مقامی تجربہ یا واقف کاروں کے مشورہ سے پھل دار درخت نصب ہو سکتے ہوں وہاں پھل دار درخت لگائے جائیں۔اور جہاں پھل دار درخت کامیاب نہ ہوں وہاں دوسرے درخت لگا کر فائدہ اٹھایا جائے۔یہ ایک نہایت مفید کام ہے جس کی طرف سے ہماری جماعت کو ہر گز غفلت نہیں برتنی چاہئے۔مسلمانوں کو اور خصوصیت سے احمدی مسلمانوں کو تو شجر کاری میں خاص دلچسپی ہونی چاہئے۔کیونکہ قرآن مجید میں سچے مومنوں کے لئے آخرت میں جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اور جنت سایہ دار باغ کو کہتے ہیں۔پس جنت کی آرزو تو گویا ہماری گھٹی میں ہے۔پھل دار درختوں میں اس ملک کے مناسب حال آم، جامن ، توت، امرود، کھجور ( یہ تو ہمارے رسول پاک کے وطن کا مبارک پھل ہے ، انجیر، مالٹا ، ناشپاتی ،سیب ،سوڈا ،سنگترہ، گریپ فروٹ ، آڑو، آلوچہ، لوکاٹ، پپیتہ، بیر، کیلا وغیرہ تجربہ شدہ درخت ہیں۔البتہ زمین اور آب و ہوا کی مناسبت دیکھنی ضروری ہے۔غیر پھل دار درختوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔مثال کے طور پر شیشم یعنی ٹالی ، بول یعنی کیکر (جس کی کئی اقسام ہیں ) بکائن یعنی دھریک ، صریح ، پھلا ہی، یوکلپٹس ، جنڈ ، پیپل، بڑ یعنی بوڑھ ، جنگلی بیر، آنولہ، ہرڑ ، بہیڑا، ڈیلہ تن سمبل وغیرہ۔اور پہاڑی درختوں میں چیل، دیار، کیل، اخروٹ، چنار، بادام وغیرہ بہت مفید اور کارآمد درخت ہیں۔میں نے اخباروں میں پڑھا ہے کہ حکومت نے مختلف مقامات پر مختلف درختوں کی پنیری مہیا کرنے کا انتظام کیا ہے اور غالباً یہ پنیری جہاں تک غیر پھل دار درختوں کا تعلق ہے مفت ملے گی۔اس کے لئے علاقہ