مضامین بشیر (جلد 3) — Page 671
مضامین بشیر جلد سوم 671 نیک لوگ بھی اسی دنیا میں بستے ہیں اور بد بھی اسی دنیا میں آباد ہیں۔مگر نیک لوگوں کے لئے یہ دنیا ایک نئی دنیا بن جاتی ہے جس میں ان کا بہشت خدا کی رضا میں ہوتا ہے۔اور ان کا شیطان مسلمان ہو جاتا ہے اور ان کا آدم ان کے لئے ایک پاک نسل کا بانی بنتا ہے۔بس اس وقت یہی میرا خدام الاحمدیہ کے نام پیغام ہے اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور انہیں اپنی رضا کے مطابق کام کرنے اور اسلام اور احمدیت کا بول بالا کرنے کا عزم اور توفیق اور طاقت عطا کرے۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ( محررہ 30 جولائی 1959ء) تحریک جدید کی برکات روزنامه الفضل ربوه 5 اگست 1959ء) درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے دل میں ایک نیا نظام القا کیا جو جماعت کی حفاظت اور استحکام اور توسیع کے لئے نہایت با برکت ثابت ہوا۔یہ نظام’تحریک جدید سے موسوم ہے۔اس نظام کی بہت سی شاخیں تھیں جو بعض تبلیغ کے ساتھ اور بعض تربیت کے ساتھ اور بعض تنظیم کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں اور ان سب کاموں کو چلانے کے لئے ایک خاص چندے کی تحریک کی گئی جو آج کل چندہ تحریک جدید کہلاتا ہے۔اس چندہ کے ذریعہ جماعت کے استحکام کے تعلق میں بہت سے کام کئے جاتے ہیں لیکن اس چندے کا سب سے بڑا مصرف بیرونی ممالک میں اسلام کی تبلیغ ہے اور آج خدا کے فضل سے یہ تبلیغ اتنی وسیع ہو چکی ہے کہ چوبیس (24) بیرونی ممالک میں جن میں سے اکثر عیسائی اور مشرک ممالک ہیں چونسٹھ (64) تبلیغی مرکز اسی چندہ کی بناء پر دن رات اسلام کی تبلیغ میں مصروف ہیں۔جن میں ایسے مخلص اور فدائی نوجوان کام کرتے ہیں جنہوں نے اس نظام کے ماتحت اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کر رکھی ہیں۔اسی طرح تحریک جدید کے نظام کے ماتحت بیرونی ممالک میں اس وقت تک بارہ (12) مساجد تعمیر ہو چکی ہیں اور دس مختلف زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ بھی چھپ کر شائع ہو چکا ہے یا ہورہا ہے۔یہ ایک