مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 656 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 656

مضامین بشیر جلد سوم 656 دراصل نبیوں کے مخالف جو اپنے وقت کے رسولوں پر جنون کا الزام لگاتے رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نبیوں میں اپنے خدا داد مشن اور تبلیغ حق کی ادائیگی میں اتنا جوش اور انہماک دیکھتے ہیں کہ وہ اس بات کو خیال میں بھی نہیں لا سکتے کہ کوئی شخص اس قسم کے روحانی اور ان کے نزدیک خیالی امر میں اتنا مستغرق ہوسکتا ہے۔اس لئے وہ ان کے دن رات کے استغراق کی وجہ سے ان کی حالت کو جنون کا نام دے دیتے ہیں۔ور نہ نبیوں سے بڑھ کر دانا اور فرزانہ کون ہو سکتا ہے؟ اب رہیں جزام وغیرہ قسم کے امراض جن میں انسان کا جسم بہت گھناؤنی شکل اختیار کر لیتا ہے جسے لوگ دیکھ کر دور بھاگتے ہیں سو اگر اس کے متعلق بھی معترض صاحب غور فرماتے تو ان کے لئے قرآن میں جواب موجود تھا۔چنانچہ قرآن ہمارے آقا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ ، وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ (آل عمران: 160) یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ خدائی رحمت کا حصہ ہے کہ تو اپنے اصحاب کے لئے دل کا نرم بنایا گیا ہے ورنہ اگر تو کرخت اور دل کا سخت ہوتا تو یہ لوگ جواب تیرے قدموں کے ساتھ چھٹے بیٹھے ہیں تجھ سے ہٹ کر پرے چلے جاتے۔اس آیت کریمہ میں یہ لطیف اصول بیان کیا گیا ہے کہ نبیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے درشت اور کرخت اخلاق سے بچاتا ہے کہ لوگ ان کے اخلاق کی وجہ سے ان سے دور بھا گیں۔تو جب اخلاق کے متعلق جو نسبتا مخفی چیز ہے یہ خدائی سنت ہے تو جسم کی گھناؤنی بیماریاں جو کہہ ومہ کو نظر آنے والی چیز ہیں ان کے متعلق بدرجہ اولیٰ یہ سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو ان سے محفوظ رکھتا ہے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ایک مامور من اللہ کے ذکر کی ذیل میں ایک لحاظ سے زیادہ صراحت کے ساتھ فرماتا ہے کہ : زَادَهُ بَسْطَةٌ فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْم (البقرة : 248) یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے علمی قوتوں اور جسمانی محاسن دونوں میں امتیاز بخشا تھا۔اس آیت میں بھی یہی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو اصلاح خلق کے لئے کھڑا کرتا ہے انہیں جسمانی محاسن سے بھی نوازتا ہے اور عقلاً بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔ورنہ کئی لوگ ایک ٹولے لنگڑے اور کر یہ المنظر انسان کی اقتداء قبول کرنے سے طبعاً گھبرائیں اور حق کی اشاعت میں روک پیدا ہو جائے۔اسی اصول پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ گو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل چیز ایمان اور تقویٰ