مضامین بشیر (جلد 3) — Page 657
مضامین بشیر جلد سوم 657 ہے۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أتقنكُمُ (الحجرات : 14) مگر باوجود اس کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ عوام الناس کو ٹھوکر سے بچانے کے لئے خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو عرف عام میں معزز سمجھے جانے والی قوموں میں سے مبعوث فرما تا ہے تا کہ کسی کو انگشت نمائی کا موقع نہ ملے اور صداقت سے روح گردانی کا بہانہ نہ پیدا ہو جائے۔پس یہ بات اصولاً درست ہے کہ ایک نبی کو کسی قسم کی گھناؤنی بیماری جزام وغیرہ کی قسم کی نہیں ہوا کرتی۔مگر غضب تو یہ ہے کہ میرے بحر والے مضمون میں کہاں لکھا ہے کہ ایسی بیماری نبیوں کو بھی ہوسکتی ہے؟ میں نے تو مثال کے طور پر چند قسم کی بیماریاں کنائی تھیں۔اور اس کے بعد وغیرہ وغیرہ کے الفاظ لکھ کر واضح اشارہ کر دیا تھا کہ اسی قسم کی دوسری بیماریاں بھی نبیوں کو ہو سکتی ہیں۔نہ یہ کہ انہیں ہر قسم کی بیماری ہوسکتی ہے خواہ وہ جنون اور جزام وغیرہ کی بیماری بھی ہو۔اور خواہ قرآن مجید میں اس کے خلاف صراحت ہی پائی جاتی ہو۔بے شک بائبل میں حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف ایک گھناؤنی بیماری منسوب کی گئی ہے مگر موجودہ بائبل نے حسب عادت اس معاملہ میں بہت مبالغہ سے کام لیا ہے۔ورنہ قرآن مجید میں اس قسم کی کوئی صراحت نہیں پائی جاتی۔وَالْحَقُّ مَا قَالَهُ الْقُرْآنُ وَأَثْبَتَهُ الْفُرْقَانِ وَ اَطْمَأَنَ بِهِ الْجَنَانُ بایں ہمہ یہ ظاہر ہے اور قرآن نے اس کی صراحت فرمائی ہے کہ گوگئی اصولی باتیں سب نبیوں میں یکساں ہوتی ہیں۔مگر بعض باتوں میں ان میں سے بعض کو بعض دوسرے نبیوں پر امتیاز حاصل ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ عقیدہ تھا جسے آپ نے کئی جگہ صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ گو عام نبی جب وہ اپنا کام کر چکیں اور ان کی بعثت کی غرض پوری ہو جائے تو وہ دشمنوں کی شرارت کے نتیجہ یا کسی حادثہ کے نتیجہ میں قتل بھی ہو سکتے ہیں۔جیسا کہ حضرت کی قتل ہوئے۔مگر اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ کسی سلسلہ کے بانی نبی اور اس کے آخری نبی کو قتل سے محفوظ رکھتا ہے۔کیونکہ یہ دو نبی گویا دود یوار میں ہوتی ہیں جن کے درمیان اس سلسلہ کی حفاظت کا سامان کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان نبیوں کا خصوصی اکرام بھی ملحوظ ہوتا ہے۔اور جب مختلف نبیوں کے حالات میں فرق ہوتا ہے تو نبیوں اور خلفاء میں تو فرق ظاہر و عیاں ہے جس سے کوئی دانا انسان انکار نہیں کرسکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اوپر والے مختصر سے نوٹ میں اپنے معزز دوست کے جملہ سوالوں کا اصولی جواب دے دیا ہے۔جس کی مدد سے وہ اگر اپنے سینہ کو صاف کر کے غور کریں تو اسی قسم کے دوسرے جزوی سوالوں کا جواب خودسوچ سکتے ہیں۔بلکہ ان سے تو میں امید رکھتا تھا کہ وہ مجھ سے دریافت کرنے کے بغیر از خود