مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 652 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 652

مضامین بشیر جلد سوم 652 ایسی تعلیم دیں گے جسے تو نہیں بھولے گا ) تو پھر آپ کو نسیان کی بیماری کس طرح ہوگئی ؟ تو اس کے جواب میں اچھی طرح یا د رکھنا چاہئے کہ یہ وعدہ صرف قرآنی وحی کے متعلق ہے نہ کہ عام۔اور مراد یہ ہے کہ اے رسول ! ہم اپنی جو وحی تجھ پر امت کی ہدایت کے لئے نازل کریں گے اسے تو نہیں بھولے گا اور ہم قیامت تک اس کی حفاظت کریں گے۔عام روزمرہ کی باتوں اور دنیوی امور یا دینی اعمال کے ظاہری مراسم کے متعلق یہ وعدہ ہرگز نہیں ہے۔چنانچہ حدیث سے ثابت ہے کہ آپ کئی موقعوں پر بشری لازمہ کے ماتحت بھول جاتے تھے بلکہ حدیث میں یہاں تک آتا ہے کہ آپ بعض اوقات نماز پڑھاتے ہوئے رکعتوں کی تعداد کے متعلق بھی بھول گئے اور لوگوں کے یاد کرانے پر یاد آیا ( بخاری ومسلم ) اسی طرح اور کئی موقعوں پر آپ بھول جاتے تھے۔بلکہ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے متعلق فرمایا ہے کہ میں بھی انسان ہوں اور تمہاری طرح بھول سکتا ہوں۔چنانچہ فرماتے ہیں: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنسَى كَمَاتَنْسَونَ فَإِذَا نَسِيْتُ فَاذْكُرُونِی۔(ابوداؤ د کتاب الصلاۃ باب از اصلی خمسا ) یعنی میں بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں اور جس طرح تم کبھی بھول جاتے ہوئیں بھی بھول سکتا ہوں۔پس اگر میں کسی معاملہ میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلا دیا کرو۔پس جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کبھی عام اور وقتی نسیان ہو جا تا تھا اسی طرح صلح حدیبیہ کے بعد کچھ عرصہ کے لئے بیماری کے رنگ میں نسیان ہو گیا۔چنانچہ یہی وہ تشریح ہے جو سحر والی روایت کے تعلق میں بعض گزشتہ علماء نے کی ہے۔مثلاً علامہ ماذری فرماتے ہیں: قَدْ قَامَ الدَّلِيلُ عَلَى صِدْقَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مُعْجَزَاتُ شَاهِدَاتٌ بِتَصْدِيقِهِ وَإِمَّا مَا يَتَعَلَّقُ بِأُمُورِ الدُّنْيَا الَّتِى لَمْ يُبْعَثُ لَاجُلِهَا فَهُوَ فِي ذَالِكَ عُرُضَةً لَّمَا يُعْرَضُ مِنَ الْبَشَرِ كَالًا مُرَاضِ۔فتح الباری شرح بخاری جلد نمبر 10 صفحه 177) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر بے شمار پختہ دلائل موجود ہیں اور آپ کے معجزات بھی آپ کی سچائی پر گواہ ہیں۔باقی عام دنیا کے امور جن کے لئے آپ مبعوث نہیں کئے گئے تھے سواس تعلق میں سیا ایک بیماری کا عارضہ سمجھا جائے گا جیسا کہ انسان کو دوسری بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔اور علامہ ابن القصار فرماتے ہیں: