مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 45 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 45

مضامین بشیر جلد سوم 45 شخص خلافت کی بجائے ملوکیت کی عبا پہن چکا ہے۔سو اس کے متعلق میرے علم میں تین علامات مقرر ہیں جن میں سے ایک تو ظاہری علامت ہے اور دو معنوی علامات ہیں جو مطالعہ اور غور کے نتیجہ میں شناخت کی جاتی (بقیہ حاشیہ صفحہ 44) حضرت عیسی علیہ السلام کی خلافت اب تک چلی آرہی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم کہتے ہیں کہ پوپ صحیح معنوں میں حضرت مسیح کا خلیفہ نہیں۔لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی تو مانتے ہیں کہ امت عیسوی بھی صحیح معنوں میں مسیح کی امت نہیں۔پس جیسے کو تیسا تو ملا ہے مگر ملا ضرور ہے۔بلکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے موسی کے بعد ان کی خلافت عارضی رہی۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد ان کی خلافت کسی نہ کسی شکل میں ہزاروں سال تک قائم رہی۔اسی طرح گورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت محمد یہ تو اتر کے رنگ میں عارضی رہی لیکن مسیح محمدی کی خلافت مسیح موسوی کی طرح ایک غیر معین عرصہ تک چلتی چلی جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مسئلہ پر بار بارز ور دیا ہے کہ مسیح محمدی کو سیح موسوی کے ساتھ اُن تمام امور میں مشابہت حاصل ہے جو امور کہ تکمیل اور خوبی پر دلالت کرتے ہیں سوائے ان امور کے کہ جن سے بعض ابتلا ملے ہوتے ہیں۔ان میں علاقہ محمدیت علاقہ موسویت پر غالب آجاتا ہے اور نیک تبدیلی پیدا کر دیتا ہے۔جیسا کہ مسیح اول صلیب پر لٹکایا گیا لیکن مسیح ثانی صلیب پر نہیں لٹکایا گیا۔کیونکہ مسیح اول کے پیچھے موسوی طاقت تھی اور مسیح ثانی کے پیچھے محمدی طاقت تھی۔خلافت چونکہ ایک انعام ہے ابتلاء نہیں اس لئے اس سے بہتر چیز تو احمدیت میں آسکتی ہے جو کہ مسیح اول کو ملی لیکن وہ ان نعمتوں سے محروم نہیں رہ سکتی جو کہ مسیح اول کی امت کو ملیں۔کیونکہ مسیح اول کی پشت پر موسوی برکات تھیں اور مسیح ثانی کی پشت پر محمدی برکات ہیں۔پس جہاں میرے نزدیک یہ بحث نہ صرف یہ کہ بے کار ہے بلکہ خطر ناک ہے کہ ہم خلافت کے عرصہ کے متعلق بخشیں شروع کر دیں۔وہاں یہ امر ظاہر ہے کہ سلسلہ احمدیہ میں خلافت ایک بہت لمبے عرصہ تک چلے گی جس کا قیاس بھی اس وقت نہیں کیا جاسکتا۔اور اگر خدانخواستہ بیچ میں کوئی وقفہ پڑے بھی تو وہ حقیقی وقفہ نہیں ہوگا بلکہ ایسا ہی وقفہ ہو گا جیسے دریا بعض دفعہ زمین کے نیچے گھس جاتے ہیں اور پھر باہرنکل آتے ہیں۔کیونکہ جو کچھ اسلام کے قرون اولیٰ میں ہوا وہ اُن حالات سے مخصوص تھا۔وہ ہر زمانہ کے لئے قاعدہ نہیں تھا۔(روزنامہ الفضل ربوہ 3 اپریل 1952ء)