مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 44 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 44

مضامین بشیر جلد سوم 44 بالآخر صرف اس سوال کا جواب دے کر اپنے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ اسلامی تعلیم کے مطابق سچے خلیفہ کی علامت کیا ہے اور یہ کس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ فلاں خلیفہ خدا کی طرف سے خلیفہ برحق ہے اور فلاں (بقیہ حاشیہ صفحہ 43) خلافت عارضی ہے یا مستقل حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا وضاحتی نوٹ عزیزم مرزا منصور احمد صاحب نے میری توجہ ایک مضمون کی طرف پھیری ہے جو مرزا بشیر احمد صاحب نے خلافت کے متعلق شائع کیا ہے اور لکھا ہے کہ غالبا اس مضمون میں ایک پہلو کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی۔جس میں مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ تحریر کیا ہے کہ خلافت کا دور ایک حدیث کے مطابق عارضی اور وقتی ہے۔میں نے اس خط سے پہلے یہ مضمون نہیں پڑھا تھا۔اس خط کی بناء پر میں نے مضمون کا وہ حصہ نکال کر سنا تو میں نے بھی سمجھا کہ اس میں صحیح حقیقت خلافت کے بارہ میں پیش نہیں کی گئی۔مرزا بشیر احمد صاحب نے جس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ خلافت کے بعد حکومت ہوتی ہے اُس حدیث میں قانون نہیں بیان کیا گیا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے حالات کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے اور پیشگوئی صرف ایک وقت کے متعلق ہوتی ہے۔سب اوقات کے متعلق نہیں ہوتی۔یہ امر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت نے ہونا تھا اور خلافت کے بعد حکومت مستبدہ نے ہونا تھا اور ایسا ہی ہو گیا۔اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہر مامور کے بعد ایسا ہی ہوا کرے گا۔قرآن کریم میں جہاں خلافت کا ذکر ہے وہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خلافت ایک انعام ہے۔پس جب تک کوئی قوم اس انعام کی مستحق رہتی ہے وہ انعام اسے ملتا رہے گا۔پس جہاں تک مسئلے اور قانون کا سوال ہے وہ صرف یہ ہے ہر نبی کے بعد خلافت ہوتی ہے اور وہ خلافت اس وقت تک چلتی چلی جاتی ہے جب تک کہ قوم خود ہی اپنے آپ کو خلافت کے انعام سے محروم نہ کر دے۔لیکن اس اصل سے ہر گز یہ بات نہیں نکلتی کہ خلافت کا مٹ جانا لازمی ہے۔