مضامین بشیر (جلد 3) — Page 642
مضامین بشیر جلد سوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بحر کا مزعومہ واقعہ 642 تاریخ بلکہ حدیثوں تک میں بیان ہوا ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نعوذ باللہ ایک دفعہ ایک یہودی نسل منافق نے جس کا نام لبید بن اعصم تھا سحر کر دیا تھا۔اور یہ سحر اس طرح کیا گیا کہ ایک کنگھی میں بالوں کی گر ہیں باندھ کر اور اس پر کچھ پڑھ کر اسے ایک کنویں میں دبا دیا گیا۔اور کہا جاتا ہے کہ آپ نعوذ باللہ اس سحر میں کافی عرصہ تک مبتلا ر ہے۔اس عرصہ میں آپ اکثر اوقات اداس اور افسردہ رہتے تھے اور گھبراہٹ میں بار بار دعا فرماتے تھے اور اس حالت کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ کو ان ایام میں بہت زیادہ نسیان رہنے لگا تھا۔حتی کہ بسا اوقات آپ خیال کرتے تھے کہ میں یہ کام کر چکا ہوں مگر دراصل آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔یا بعض اوقات آپ خیال فرماتے تھے کہ میں اپنی فلاں بیوی کے گھر ہو آیا ہوں مگر در حقیقت آپ اس کے گھر نہیں گئے ہوتے تھے۔(اس تعلق میں یاد رکھنا چاہئے کہ آپ کا یہ طریق تھا کہ اسلامی احکام کے مطابق آپ نے اپنی بیویوں کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ہر روز شام کو ہر بیوی کے گھر جا کر خیریت دریافت فرماتے تھے۔اور بالآخر اس بیوی کے گھر پہنچ جاتے تھے جس کی اس دن باری ہوتی تھی۔اوپر والی روایت میں اسی طرف اشارہ ہے ) بالآخر خدا تعالیٰ نے ایک رؤیا کے ذریعہ آپ پر اس فتنہ کی حقیقت کھول دی وغیرہ وغیرہ۔( خلاصه روایات بخاری وابن سعد و غیره) یہ اس روایت کا خلاصہ ہے جو تاریخ اور حدیث کی بعض کتابوں میں بیان ہوئی ہے۔اور اس روایت کے گرد ایسے قصوں کا جال بن دیا گیا ہے کہ اصل حقیقت کا پتہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔اور اگر ان سب روایتوں کو قبول کیا جائے تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک اور مقدس وجود ایسا ثابت ہوتا ہے کہ گویا ( خاکم بدہن ) آپ ایک بہت کمزور طبیعت کے انسان تھے جسے کم از کم دنیا کے معاملات میں آپ کے بد باطن دشمن اپنی سحر کاری سے جس قالب میں چاہتے تھے ڈھال سکتے تھے۔اور یہ کہ وہ آپ کو اپنی نا پاک توجہ کا نشانہ بنا کر آپ کے دل و دماغ پر اس طرح تصرف جمانا شروع کر دیتے تھے کہ آپ نعوذ باللہ اس سحر کاری کے مقابل پر اپنے آپ کو بے بس پاتے تھے وغیرہ وغیرہ۔لیکن اگر ان روایات کے متعلق معقولی اور منقولی طریق پر غور کیا جائے اور روایات کی محققانہ چھان بین کی جائے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک مرض نسیان کا عارضہ تھا۔جو بعض وقتی تفکرات اور پیش آمدہ جسمانی ضعف کے نتیجہ میں آپ کو کچھ وقت کے لئے لاحق ہو گیا تھا۔جس سے بعض بدخواہ دشمنوں نے فائدہ اٹھا کر یہ مشہور کر دیا کہ ہم نے نعوذ باللہ مسلمانوں