مضامین بشیر (جلد 3) — Page 639
مضامین بشیر جلد سوم 639 یعنی اے مسلمانو ! تمہارے لئے رسول خدا کی سنت میں ایک بہترین نمونہ ہے جسے تمہیں اپنی زندگیوں کے لئے مشعل راہ بنانا چاہئے۔اور دوسری جگہ فرماتا ہے اور بار بار کثرت کے ساتھ فرماتا ہے۔أطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ (النساء : 60) یعنی اے مسلمانو! خدا کی اطاعت کرو اور اس کے ساتھ ساتھ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی کرو۔اب اگر خدا کی اطاعت یعنی دوسرے الفاظ میں قرآنی وحی پر ہی سارے اسلامی احکام کا خاتمہ ہو گیا تھا تو پھر قرآن شریف کو ان الفاظ کے زیادہ کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ اطِيعُوا الرَّسُولَ ، یعنی رسول کی بھی تابعداری کرو حق یہی ہے کہ چونکہ قرآنی وحی میں اختصار کی غرض سے کئی جگہ اجمال کا رنگ ہے اور ہر شخص اجمالی رنگ میں احکام کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا اس لئے خدا تعالیٰ نے کمال حکمت سے رسول کو بھی شریعت کا حصہ قرار دیا ہے تا کہ شریعت میں کوئی پہلو عدم تکمیل کا باقی نہ رہے۔اور نہ کوئی شخص جھوٹے عذر بنا کر شریعت کے حکموں کو ٹال سکے۔پس اگر ایک بات قطعی شہادت کے ذریعہ سنت اور حدیث سے ثابت ہو جائے تو وہ ہمیں بہر حال قبول کرنی ہوگی۔اور میں اس شخص کی جرأت کو یقینا غیر دینی روح کا مظاہرہ خیال کرتا ہوں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے رسول کی اُمت میں ہو کر یہ کہتا ہے کہ میں محمد کی بات نہیں مانتا وہ شخص اپنی بیوی اور اپنے بچوں اور اپنے دوستوں کی تو روزانہ سینکڑوں باتیں مانتا ہے مگر جب افضل الرسل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بیان کی جاتی ہے تو کہتا ہے یہ نہیں بلکہ کوئی قرآنی آیت پیش کرو۔هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تَصِفُونَ۔لیکن حق یہ ہے کہ قرآن شریف بھی اس مسئلے میں خاموش نہیں بلکہ اس نے بھی اپنے طریق کے مطابق قربانیوں کے مسئلہ پر اصولی روشنی ڈالی ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَه فَصَلَّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُه إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْابْتَرُه (الكوثر : 2-4) یعنی اے رسول ! ہم نے تجھے اسلام کے ذریعہ ایک وسیع اور کامل نعمت عطا کی ہے۔اب تجھے اس نعمت کو قائم رکھنے کیلئے چاہئے کہ خدا کی نماز ادا کر ارو اس کے رستہ میں قربانی دے۔اس کے نتیجہ میں دین و دنیا کی نعمتیں تیری طرف سمٹی آئیں گی اور تیرا دشمن خیر اور برکت سے محروم رہے گا۔یہ آیت بلکہ یہ سورت ( کیونکہ یہ ساری سورت ہے ) مکہ کے آخری زمانہ میں یا مدینہ کے شروع زمانہ میں نازل ہوئی تھی (فتح القدیر امام شوکانی ) جبکہ ابھی تک کعبہ کفار کے قبضہ میں تھا اور حج بھی ابھی فرض نہیں