مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 635 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 635

مضامین بشیر جلد سوم 635 30 عید الاضحی کی قربانیاں مولانا غلام مر شد صاحب کا خطبہ عید قربان شاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا غلام مرشد صاحب نے جو ایک عمدہ سلجھی ہوئی طبیعت رکھنے والے عالم ہیں لِكُلِّ عَالِم هَفَوَةٌ کے مطابق اس عید الاضحی کے خطبہ میں یہ تحریک کی ہے کہ جانوروں کی قربانی کی بجائے روپوں سے قومی کاموں میں امداد دیدی جایا کرے۔مولانا کی یہ تجویز اسلامی روح، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور آپ کے ارشادات کے صریح خلاف ہے۔اس قسم کی باتوں سے الحاد اور اباحت کا ایسا باب وا ہوتا ہے کہ پھر دین کی شکل ہی مسخ ہو جاتی ہے۔ذیل میں ہم رفتار زمانہ (18 جون ) اور الاعتصام (26 جون ) سے بصد شکر یہ اس بارے میں دو قیمتی مضمون نقل کرتے ہیں۔رفتار زمانہ والا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کا جامع مضمون عام سوالات کے جواب میں ہے۔الاعتصام والا مولانا سید محمد داؤ د صاحب غزنوی کا ٹھوس مضمون خاص مولوی غلام مرشد صاحب کے جواب میں ہے۔(ایڈیٹر ) عیدالاضحی کی قربانیاں سوال یہ ہے کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر غیر حاجیوں کے لئے بھی قربانی واجب ہے تو اس کا ثبوت کیا ہے؟ اس کے جواب میں پہلی بات تو یہ یاد رکھنی چاہئے کہ اگر واجب یا ضروری کا سوال ہو تو غیر حاجی تو در کنار حاجیوں پر بھی قربانی ہر صورت میں واجب نہیں ہے۔بلکہ اس کے لئے شریعت نے بعض خاص شرطیں لگائی ہیں۔مثلاً خالی حج کرنے والے پر ( جو اصطلاحاً افراد کہلاتا ہے ) قربانی واجب نہیں بلکہ صرف اس صورت میں واجب ہے کہ وہ یا تو حج اور عمرہ کو ایک ہی وقت جمع کرنے والا ہو۔جسے اسلامی اصطلاح میں تمتع یا قران کہتے ہیں ( قرآن شریف سورۃ بقرہ آیت 197 ) اور یاوہ ایسے حاجی پر واجب ہے جو حج کی نیت سے نکلے مگر پھر حج کی تکمیل سے پہلے کسی حقیقی مجبوری کی بناء پر حج ادا کرنے سے محروم ہو جائے۔(سورہ بقرہ آیت 197 ) اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ مالی لحاظ سے قربانی کی طاقت رکھتا ہو۔ورنہ وہ قربانی کی بجائے روزہ کا کفارہ پیش کر سکتا ہے۔پس جب ہر حالت میں حاجیوں کیلئے بھی قربانی فرض نہیں تو یہ کس طرح دعوی کیا جا سکتا ہے کہ غیر حاجیوں کے لئے وہ فرض یا واجب ہے؟