مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 633 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 633

مضامین بشیر جلد سوم 633 واپس تشریف لے گئے تو اس عورت کو لوگوں نے بتایا کہ یہ تو نے کیا جواب دیا یہ تو رسول پاک تھے“ اس پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں صبر کرتی ہوں ، آپ نے فرمایا: إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأولى ( صحیح بخاری کتاب الجنائز باب زيارة القبور ) یعنی اصل صبر تو وہ ہے جو انسان کسی صدمہ کے ابتدائی دھکے کے وقت دکھاتا ہے۔اور یہی صحیح صورت ہے۔ورنہ جب کسی نے جزع فزع کر کے اور چیخ و پکار سے اپنے دل کی بھڑاس نکال کر صبر کیا تو وہ صبر کس کام کا ؟ وہ تو دراصل تھک کر اور اپنے آپ کو بے بس پا کر ہتھیار ڈالنے والی بات ہے۔پس میں اپنے عزیزوں اور دوستوں اور جماعتی بھائیوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ہمیشہ صحیح اسلامی صبر کے مقام پر قائم رہیں۔اور ایسا کامل صبر دکھائیں جو قرآن نے سکھایا ہے اور جس کا ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم اور پھر ہمارے سردار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی زندگیوں میں بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔اسلام فطرت کا مذہب ہے وہ نہ تو طبعی غم کے واجبی اور جائز اظہار سے روکتا ہے اور نہ ایسی جزع فزع اور ایسی چیخ و پکار کی اجازت دیتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان تو حید کے مرکزی نقطہ سے متزلزل ہو جائے۔اور وہ سچا صبر یہی ہے جس پر رسول پاک (فداہ نفسی) قائم تھے یعنی : ہے کہ: إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا تَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَىٰ رَبَّنَا ( صحیح بخاری کتاب الجنائز باب قول النبی آنا ایک لمحزونون) اور یہ وہی صبر ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اس مصرع میں ارشاد فرمایا ہلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پر اے دل تو جاں فدا کر اور یقیناً یہ وہی صبر ہے جس کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ: أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ (البقره: 158) وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (محرره 15 جون 1959 ء) روزنامه الفضل ربوہ 18 جون 1959ء)