مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 632 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 632

مضامین بشیر جلد سوم کمال صبر کے ساتھ فرمایا: جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اسے بلایا 632 بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پر اے دل تو جاں فدا کر ( در مشین اردو) دیکھو ان اشعار میں بھی بعینہ انہی جذبات کا اظہار ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچے حضرت ابراہیم کی وفات پر ظاہر فرمائے۔یعنی ایک طرف اپنے گہرے قلبی غم کا اظہار ہے جو ایک فطری امر ہے اور دوسری طرف خدا کی تقدیر پر کامل صبر و رضا کا مقام ہے جو تو حید کا مرکزی نقطہ ہے۔اور جب مبارک احمد کی وفات کا سن کر بعض احباب بیرون جات سے افسوس کے لئے قادیان آئے اور مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کے ساتھ ایسے ایمان افروز رنگ میں گفتگو فرمائی کہ مجھے خوب یاد ہے کہ حضور کی یہ گفتگو سن کر خلیفہ رجب دین صاحب مرحوم نے جو خواجہ کمال دین صاحب مرحوم کے خسر تھے حیران ہو کر کہا کہ : " حضرت ! ہم تو آپ کو تسلی دینے آئے تھے اور آپ ہمیں تسلی دے رہے ہیں !! مگر اسلامی صبر ورضا کے بارے میں ایک اور بات بھی ضرور یا درکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ صبر کا اصل وقت کسی مصیبت کے دھکے کا ابتدائی مرحلہ ہوتا ہے ورنہ بعد میں تو ہر انسان کو آہستہ آہستہ صبر آ ہی جاتا ہے اور دلوں کے گہرے گھاؤ بھی کچھ وقت کے بعد مندمل ہو جاتے ہیں۔پس اسلامی تعلیم کے مطابق حقیقی طور پر صابر انسان وہی سمجھا جائے گا جو کسی مصیبت کے ابتدائی دھکے کے وقت صبر کرتا اور رضا بالقضاء کے مقام پر فائز رہتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے جہاں ایک عورت اپنے بچے کے مرنے پر بڑی بے صبری کا اظہار کر کے ناجائز جزع فزع کر رہی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب تشریف لے گئے اور فرمایا ” مائی صبر کرو خدا تمہیں اس صبر کا اجر دے گا۔اس جاہل عورت نے سامنے سے کہا ” تمہارا بچہ فوت ہوتا تو تب تمہیں پتہ لگتا۔آپ اس کی حالت کو دیکھ کر وہاں سے خاموشی کے ساتھ چلے آئے اور غالبا دل میں فرماتے ہوں گے کہ یہ نالائق کیا جانے کہ میرے کتنے بچے فوت ہو چکے ہیں ؟ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم